ARTICLE AD BOX
یہ بیٹھک ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ممالک پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے۔
اپ ڈیٹ 07 جولائ 2026 05:36pm
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر کو لے جانے والا خصوصی طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جہاں اجلاس کے دوران نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو انقرہ پہنچے تو ایتیمس گوت ایئر بیس پر ان کے لیے خصوصی استقبالی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ترک روایات کے مطابق استقبالی مقام پر روایتی سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکی کی ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ ترک اعزازی گارڈ نے بھی صدر ٹرمپ کو سلامی پیش کی۔
صدر رجب طیب اردوان خود ہوائی اڈے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو امریکا اور ترکی کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر اردوان کو اپنا دوست قرار دے چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے امریکا کے ترکی میں سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بارک، نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی موجود تھے۔
نیٹو کے اس اہم اجلاس میں رکن ممالک کے رہنما دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتِ حال سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے، جب کہ صدر ٹرمپ کی مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
نیٹو کا یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ تیز کر دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ متعدد یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں اور فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کریں گے۔
تاہم اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیٹو کے اتحادی امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائی میں مناسب تعاون نہیں کر رہے، جب کہ کئی رکن ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔
دوسری جانب یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بڑی حد تک نبھائیں۔ حکام کے مطابق یورپی ممالک نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ ایران کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے نیٹو پر کھل کر تنقید کی ہو۔ رواں سال اپریل میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس اتحاد پر شدید تحفظات ہیں۔ اس سے قبل اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کریں تو امریکا اتحاد سے الگ ہو سکتا ہے۔
بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے یورپ کی سلامتی میں امریکی کردار محدود کرنے کی پالیسی اپنائی، جس کے تحت یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے، نیٹو کے دفاعی منصوبوں کے لیے فراہم کیے جانے والے وسائل محدود کرنے اور یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کا جامع جائزہ لینے جیسے اقدامات کیے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی، ایران اور یوکرین کی صورتحال سمیت اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔
اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 رکن ممالک کے سربراہان یا اعلیٰ نمائندے شریک ہیں، جب کہ نیٹو میں شامل نہ ہونے کے باوجود یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ بھی اجلاس میں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے اپنے وزرائے دفاع یا وزرائے خارجہ کو بھیجا ہے، جبکہ بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی خلیجی ممالک کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
اگر امریکا نیٹو چھوڑ دے تو کیا ہوگا؟
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو پر مسلسل تنقید اور اتحاد سے علیحدگی کے اشاروں کے بعد یہ سوال ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے کہ اگر امریکا واقعی نیٹو سے نکل جائے تو اس کے دنیا اور یورپ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
الجزیرہ کے مطابق دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹو امریکا کے بغیر بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے اور یورپی ممالک ایک الگ دفاعی اتحاد بھی قائم کر سکتے ہیں، تاہم امریکا کی علیحدگی سے یورپ کو شدید دفاعی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق یورپ کئی اہم دفاعی شعبوں میں امریکا پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ان میں انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی، سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات کا حصول، فوجی رسد کی فراہمی، فضائی اور میزائل دفاعی نظام جیسی اہم صلاحیتیں شامل ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نیٹو سے الگ ہو جاتا ہے تو یورپی ممالک کو ان صلاحیتوں کا متبادل تیار کرنے میں کم از کم ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے تقریباً ایک کھرب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق یورپ کی دفاعی صنعتیں اس وقت بھی مطلوبہ رفتار سے پیداوار بڑھانے میں مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کئی یورپی ممالک کی افواج کو نئے فوجیوں کی بھرتی اور موجودہ اہلکاروں کو برقرار رکھنے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مرضی سے فوری طور پر امریکا کو نیٹو سے نہیں نکال سکتے۔ امریکی قانون کے تحت نیٹو سے باضابطہ علیحدگی کے لیے امریکی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یا پھر کانگریس سے قانون کی منظوری درکار ہوگی۔
ماہرین کے مطابق فی الحال ایسا ہونا آسان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے متعدد قانون ساز اب بھی نیٹو کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مستقبل قریب میں امریکا کے نیٹو سے باضابطہ انخلا کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔
.png)
2 hours ago
4




English (US) ·