ARTICLE AD BOX
یہ معاملہ صرف ایک الیکشن جیتنے یا ہارنے کا نہیں، بلکہ بنگال کی بدلتی ہوئی سیاست، مذہبی تقسیم، عوامی غصے، معاشی مسائل اور طاقت کی نئی جنگ کی کہانی ہے۔
بھارت کی سیاست میں مغربی بنگال ہمیشہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں کئی دہائیوں تک کمیونسٹ حکومت رہی، پھر ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس نے 15 سال تک اقتدار سنبھالا، اور اب پہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کا راستہ صاف کر لیا ہے۔ لیکن اس تاریخی انتخابی نتیجے کے فوراً بعد ریاست میں تشدد، قتل، توڑ پھوڑ اور سیاسی جھڑپوں کی ایسی لہر اٹھی جس نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک الیکشن جیتنے یا ہارنے کا نہیں، بلکہ بنگال کی بدلتی ہوئی سیاست، مذہبی تقسیم، عوامی غصے، معاشی مسائل اور طاقت کی نئی جنگ کی کہانی ہے۔
مغربی بنگال میں ہوا کیا؟
انتخابی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد ریاست کے مختلف اضلاع میں پرتشدد واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس میں اب تک کم از کم چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
الیکشن نتائج کے اعلان کے فوراً بعد کولکتہ سمیت کئی اضلاع میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے کارکن آمنے سامنے آ گئے۔ مختلف علاقوں میں پارٹی دفاتر پر حملے ہوئے، جھنڈے پھاڑ دیے گئے، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور کئی مقامات پر تشدد خونی شکل اختیار کر گیا۔
کولکتہ کے علاقے بیلیا گھاٹا میں ترنمول کانگریس کے پولنگ ایجنٹ بشواجیت پٹنائک مردہ حالت میں ملے۔ پولیس کے مطابق وہ کسی فون کال کے بعد گھر سے باہر نکلے تھے اور زخمی حالت میں پائے گئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ممکن ہے وہ بھاگتے ہوئے چھت سے گر گئے ہوں، لیکن ان کے خاندان نے الزام لگایا کہ انہیں گھسیٹ کر باہر نکالا گیا اور بری طرح مارا گیا۔
بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق، پٹنائک کے ایک رشتہ دار نے کہا کہ ”حملہ آوروں نے دروازہ توڑا اور پٹنائک کو بے رحمی سے مارا۔ پڑوسی اتنے خوفزدہ تھے کہ مدد بھی نہ کر سکے۔“
بی جے پی نے اس قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد نیو ٹاؤن میں بی جے پی کارکن مدھو منڈل کی موت ہوئی۔ پولیس کے مطابق ترنمول کانگریس کے حامیوں کے ساتھ پارٹی دفتر کے کنٹرول پر جھگڑا ہوا، جس میں انہیں دھکے دیے گئے اور لاتیں ماری گئیں۔ وہ گر پڑے اور بعد میں اسپتال میں مردہ قرار دیے گئے۔
اس کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ کولکتہ کے مختلف علاقوں میں پارٹی دفاتر جلائے گئے، ترنمول کانگریس کے دفاتر پر بی جے پی کے جھنڈے لگائے گئے، جبکہ کئی مقامات پر بی جے پی نے الزام لگایا کہ ان کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کولکتہ باہر کے اضلاع میں بھی کافی خون بہا۔ ہاوڑہ کے ادے نارائن پور میں بی جے پی کارکن یادو بار ہجوم کے حملے میں مارے گئے۔ دوسری طرف نانور میں ترنمول کانگریس کے کارکن عابر شیخ کو قتل کر دیا گیا۔
دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر قتل و غارت گری کے الزام لگا رہی ہیں۔
ٹی ایم سی نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کے کارکن جیت کا جشن منانے کے نام پر معصوم لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ٹی ایم سی کی ایکس (ٹویٹر) ہینڈل سے ایک زخمی خاتون کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ بی جے پی کی وکٹری پریڈ ہے جو معصوم لوگوں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر تشدد کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں، لیکن پولیس نے خبردار کیا کہ کئی ویڈیوز پرانی یا غیر مصدقہ بھی ہو سکتی ہیں۔
کولکتہ پولیس نے کہا کہ ”صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، شہری غیر مصدقہ پوسٹس پر یقین نہ کریں۔“
بی جے پی کی جیت اتنی بڑی کیوں تھی؟
یہ سوال اب پورے بھارت میں پوچھا جا رہا ہے کہ آخر وہ ریاست، جہاں بی جے پی کبھی کمزور سمجھی جاتی تھی، وہاں اتنی بڑی جیت کیسے حاصل ہو گئی؟
بی جے پی نے 294 میں سے 206 نشستیں جیت لیں جبکہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس تقریباً 80 نشستوں تک محدود ہو گئی۔ خود ممتا بنرجی اپنی نشست بھوانی پور سے بھی ہار گئیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق اس جیت کے پیچھے کئی بڑے عوامل تھے۔ پہلا بڑا سبب ”اینٹی اِنکمبنسی“ یعنی حکومت مخالف عوامی غصہ تھا۔
ممتا بنرجی 15 سال سے اقتدار میں تھیں۔ وقت کے ساتھ لوگوں میں بے روزگاری، معاشی سست روی، انفراسٹرکچر کی خرابی اور مقامی سیاسی کارکنوں کی مداخلت پر ناراضی بڑھتی گئی۔
نئی دہلی میں ’سینٹر فار پالیسی ریسرچ‘ سے وابستہ سیاسی تجزیہ کار راہول ورما نے برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ سے گفتگو میں کہا کہ، ”ترنمول کانگریس کی روزمرہ زندگی میں مداخلت سے لوگ تنگ آ چکے تھے۔ بی جے پی نے اس بار بہت منظم مہم چلائی اور مودی نے خود کو ایک کرشماتی لیڈر کے طور پر پیش کیا۔“
بی جے پی کی اس اہم جیت میں ایک اور عنصر مذہبی پولرائزیشن یعنی ہندو مسلم تقسیم تھی۔
بی جے پی نے مسلسل یہ بیانیہ پیش کیا کہ ممتا بنرجی مسلمانوں کو خوش کرنے کی سیاست کر رہی ہیں۔ بہت سے ہندو ووٹرز نے اس بات کو قبول کیا۔
نئی دہلی میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی سیما داس نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ”میں پہلے ہمیشہ ممتا بنرجی کو ووٹ دیتی تھی، لیکن اس بار میری ساس نے کہا کہ دیدی صرف مسلمانوں کو خوش کرتی ہیں۔“
بی جے پی رہنما سویندو ادھیکاری نے بھی کھل کر کہا کہ ”اس بار ہندو ووٹوں کا اتحاد ہوا ہے۔“ انہوں نے بی جے پی کی جیت کو ”سناتنی ہندوؤں کی فتح“ قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق بنگال میں شہری علاقوں کے ہندو ووٹرز نے خاص طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا، جبکہ دیہی مسلم ووٹر بڑی تعداد میں ترنمول کے ساتھ رہے، جس سے شدید سیاسی تقسیم پیدا ہوئی۔
الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ تنازع
اس الیکشن کا سب سے متنازع پہلو ووٹر لسٹ پر نظرثانی بھی تھی۔
انتخابات سے پہلے ”اسپیشل انٹینسیو ریویژن“ کے نام سے ووٹر فہرستوں کی جانچ کی گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔
کئی اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا کہ اس عمل میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو زیادہ نشانہ بنایا گیا۔
ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ تک اس معاملے کو لے جا کر کہا کہ یہ ”غیر شفاف، جلد بازی پر مبنی اور غیر آئینی“ عمل ہے۔
رپورٹس کے مطابق لاکھوں لوگ وقت پر اپنے کاغذات مکمل نہ کر سکے اور ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہو گئے۔
سیاسی مبصر نیلانجن سرکار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ”جب لوگوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ بن جائے کہ آیا ان کا نام ووٹر لسٹ میں رہے گا یا نہیں، تو سیاست معمول پر نہیں رہتی۔“
تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف ووٹر لسٹ کی تبدیلی سے اتنی بڑی جیت ممکن نہیں تھی۔ اصل وجہ عوامی ناراضی، بی جے پی کی مضبوط مہم اور مذہبی تقسیم کا امتزاج تھا۔
مودی کی سیاست کو کیا فائدہ ہوا؟
یہ جیت نریندر مودی کے لیے صرف ایک ریاستی الیکشن کی کامیابی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی سیاسی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی کو جھٹکا لگا تھا اور وہ مکمل اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھی۔ لیکن مغربی بنگال میں اتنی بڑی کامیابی نے دوبارہ یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ مودی اب بھی بھارت کے سب سے طاقتور سیاسی رہنما ہیں۔
برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کے مطابق، ”یہ نتیجہ بھارت کی سیاسی اپوزیشن کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے جبکہ بی جے پی پہلے سے زیادہ ناقابل شکست نظر آ رہی ہے۔“
مودی نے اپنی پارٹی کی جیت پر کہا، ”مغربی بنگال کے انتخابات ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ عوام کی طاقت جیت گئی اور بی جے پی کی اچھی حکمرانی کی سیاست کامیاب ہوئی۔“
ممتا بنرجی کا شکست تسلیم کرنے سے انکار
دلچسپ بات یہ ہے کہ ممتا بنرجی نے فوری طور پر استعفا دینے سے انکار کر دیا ہے۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا، ”ہم الیکشن نہیں ہارے، ہمیں زبردستی ہرایا گیا۔ اخلاقی طور پر ہم جیتے ہیں۔“
انہوں نے الیکشن کمیشن پر بھی شدید الزامات لگائے اور کہا کہ ”اصل ولن الیکشن کمیشن ہے۔“
ممتا بنرجی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گنتی کے مرکز پر بی جے پی کارکنوں نے ان پر حملہ کیا۔ ان کے مطابق مرکزی فورسز اور انتخابی اداروں کو استعمال کر کے ترنمول کانگریس کو دبایا گیا۔
اب آگے کیا ہوگا؟
بی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ 9 مئی کو نئی حکومت حلف اٹھائے گی۔ نئے ریاستی وزیراعلٰی کے لیے سب سے مضبوط امیدوار سویندو ادھیکاری کو سمجھا جا رہا ہے، وہی رہنما جنہوں نے پہلے نندی گرام اور اب بھوانی پور میں ممتا بنرجی کو شکست دی۔
لیکن بنگال میں حالات ابھی بھی کشیدہ ہیں۔ مرکزی فورسز کی تقریباً 500 کمپنیاں اب بھی ریاست میں موجود ہیں تاکہ مزید تشدد کو روکا جا سکے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بنگال کی سیاست مزید ہنگامہ خیز ہو سکتی ہے کیونکہ ترنمول کانگریس آسانی سے میدان چھوڑنے کے موڈ میں نہیں۔
نیلانجن سرکار کہتے ہیں کہ ”ہمیں یقیناً مزید ڈرامہ دیکھنے کو ملے گا۔“
.png)
2 hours ago
5





English (US) ·