ARTICLE AD BOX
دنیا بھر میں آفس ورک کرنے والوں کی بڑی تعداد کام کے دباؤ اور ذہنی تھکن یعنی ’ورک پلیس برن آؤٹ‘ کا سامنا کر رہی ہے۔ مسلسل کام، لمبے وقت تک اسکرین دیکھنا، متحرک نہ رہنا یا جسمانی طور پر کم موومنٹ، غیر متوازن خوراک اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے نہ صرف جسمانی تھکن بڑھ رہی ہے بلکہ لوگوں کی ذہنی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق خاص طور پر دن کے درمیان میں آنے والی تھکن، توجہ کی کمی اور برین فوگ عام مسائل بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں آپ سانس لینے کی ایک مخصوص تکنیکس استعمال کر سکتے ہیں جو جسم اور دماغ کو چند لمحوں میں پرسکون کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی مشہور نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر جِل بُولٹی ٹیلرکی تحقیق کے مطابق جب مسلسل کام کے دوران تھکن، غصہ یا شدید تناؤ محسوس ہوتا ہے، تو ہمارے دماغ سے کچھ کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جیسے کہ ایک کیمیکل ’ایڈریلین‘ خارج ہوتا ہے۔
یہ کیمیکلز ہمارے جسم میں ایک طوفان برپا کرتے ہیں جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوسکتی ہے۔
اگر ہم 90 سیکنڈ تک اس احساس کو اپنے ذہن میں بار بار دہرا کر مزید ہوا نہ دیں، تو یہ جذباتی لہر خود بخود ختم ہو جاتی ہے اور جسم دوبارہ پرسکون حالت میں آ جاتا ہے۔ ہم جو گھنٹوں یا دنوں تک پریشان رہتے ہیں، وہ اس کہانی کی وجہ سے ہوتا ہے جو ہمارا ذہن اس کے بعد خود کو بار بار سناتا رہتا ہے۔
جب کام کے بوجھ سے طبیعت بوجھل ہونے لگے، تو اس 90 سیکنڈ کے وقفے کو جسمانی طور پر پرسکون ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے ”سومیٹک بریتھنگ“ کہتے ہیں۔
سومیٹک بریتھنگ دراصل سانس کی ایسی مشق ہے جس میں انسان اپنی سانس اور جسم کے احساسات پر توجہ دیتا ہے۔ اس کا مقصد اعصابی نظام کو پرسکون کرنا ہوتا ہے تاکہ جسم مسلسل دباؤ کی حالت سے نکل کر آرام اور بحالی کی کیفیت میں آ سکے۔
ماہرین کے مطابق ہماری سانس کا تعلق دماغ اور اعصابی نظام سے ہوتا ہے۔ جب انسان مسلسل دباؤ میں رہتا ہے تو جسم کا نظام ”خطرے سے نمٹنے“ والی حالت میں چلا جاتا ہے، جس سے تھکن، بے چینی اور توجہ کی کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
سومیٹک بریتھنگ کے ذریعے 90 سیکنڈ کا ری سیٹ
اس پر عمل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اسے روک دیں۔ اپنی کمر سیدھی کریں اور کرسی پر پرسکون ہو جائیں۔ ناک سے گہری اور دھیمی سانس اندر کھینچیں اور منہ سے آہستہ آہستہ باہر نکالیں۔ یہ عملہ 30 سیکنڈز تک کریں۔
اس کے بعد اپنی آنکھیں بند کریں اور توجہ جسم پر لائیں۔ یہ دیکھیں کہ تناؤ کہاں ہے؟ کیا کندھے جکڑے ہوئے ہیں؟ کیا پیشانی پر بل ہے؟ سانس لیتے ہوئے تصور کریں کہ آپ اس جکڑن کو ڈھیلا کر رہے ہیں، یہ عمل بھی 30 سیکنڈز تک کریں۔
تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ 15 سیکنڈز تک اپنے اندر کی کیفیت، بےچینی، تھکن یا غبار کو ایک نام دیں، جیسے ”میں اس وقت تھکن محسوس کر رہا ہوں“ یا ”میں دباؤ میں ہوں“۔
سائنسی طور پر، جذبے کو صرف نام دے دینے سے دماغ کا جذباتی مرکز یعنی ”ایمگڈیلا“ پرسکون ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد چوتھا مرحلہ ذہنی ارادہ اور جسمانی حرکت کا ہے۔ اپنے کندھوں کو تھوڑا سا ہلائیں، ایک ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر لائیں اور یہ ارادہ کریں کہ ”اب میں پرسکون انداز میں دوبارہ کام شروع کروں گا“۔ یہ عمل بھی 15 سیکنڈز تک کریں۔
یہ عمل ہمارے پیراسیمپاتھیٹک نروس سسٹم کو بیدار کرتا ہے، جو دل کی دھڑکن کو متوازن اور ’کورٹیسول‘ کی سطح کو کم کرتا ہے، جوکہ ایک اسٹریس ہارمون ہے
سب سے پہلے تو یہ عمل آپ کا وقت بچاتا ہے، اس کے لیے آپ کو کام چھوڑ کر کہیں جانے یا طویل مراقبہ کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ ڈیسک پر بیٹھے بیٹھے ہو جاتا ہے۔
اس عمل میں انرجی شفٹ کی وجہ سے آپ کے کام کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے دن کے وسط میں جب توانائی ختم ہونے لگتی ہے، تو یہ 90 سیکنڈ کا ری سیٹ دماغ کو ایک نئی تازگی دیتا ہے جس سے کام پر توجہ دوبارہ بحال ہو جاتی ہے۔
یہ ایک انتہائی سادہ مگر گہری فکری اور سائنسی حقیقت پر مبنی مشق ہے جو روزمرہ کی پیشہ ورانہ زندگی میں ذہنی سکون برقرار رکھنے کے لیے ایک بہترین ہتھیار ہے۔
یہوں ایک اہم بات کا ذکر بھی ضروری ہے، اگر 90 سیکنڈ گزرنے کے بعد بھی آپ کو غصہ یا دباؤ محسوس ہو رہا ہے، تو وہ جسمانی وجہ سے نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ آپ کا ذہن اس واقعے کو بار بار سوچ کر دماغ کو دوبارہ وہی کیمیکل خارج کرنے پر مجبور کر رہا ہوتا ہے، جس سے ایک نہ ختم ہونے والا ’ذہنی لوپ‘ بن جاتا ہے۔ لہٰذا اس مشق کو یقین کے ساتھ مکمل کریں اور تازہ دم ہوجائیں۔
یہ نیوروسائنسی دریافت دنیا بھر میں اسٹریس مینجمنٹ، سومیٹک بریتھنگ اور جذباتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک بنیادی سائنسی حوالے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی صرف سانس کی مشق ہی نہیں بلکہ روزمرہ کی کچھ عادات بھی برن آؤٹ کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں مثلاً مناسب مقدار میں پانی پینا، متوازن غذا لینا، کام کے دوران مختصر وقفے لے کر چلنا پھرنا، کیفین کا استعمال کم کرنا، کچھ وقت قدرتی روشنی میں گزارنا اور اپنے نیند سائیکل کا بہتر معمول اپنانا۔ تاہم اگر تھکن یا ذہنی دباؤ مسلسل برقرار رہے تو طرز زندگی میں تبدیلی کے ساتھ ماہر صحت سے مشورہ لینا ضروری ہے۔
.png)
6 hours ago
5






English (US) ·