ARTICLE AD BOX
پیٹرولیم مصنوعات پر ان بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے۔
شائع 26 جولائ 2026 11:28am
بین الاقوامی مارکیٹ سے پاکستان پہنچنے والا پیٹرول جب بندرگاہ پر اترتا ہے تو اس کی اصل قیمت تقریباً 195 سے 196 روپے فی لیٹر ہوتی ہے، مگر عام صارف تک پہنچتے پہنچتے یہ قیمت 335 سے 350 روپے تک جا پہنچتی ہے۔ اس سارے عمل میں یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر یہ اضافی رقم کہاں جاتی ہے اور کس کا کتنا حصہ ہوتا ہے۔
بندرگاہ پر جہاز لنگر انداز ہوتے ہی سب سے پہلے کسٹم ڈیوٹی اور دیگر پورٹ چارجز کی مد میں تقریباً 17 سے 18 روپے فی لیٹر شامل کیے جاتے ہیں، جس کے بعد ٹیکسوں کا ایک بڑا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد اگلا مرحلہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور سپلائی کا آتا ہے۔ تیل کمپنیوں کی نقل و حمل اور انتظامی اخراجات کا مارجن تقریباً 16.50 روپے فی لیٹر تک مقرر کیا جاتا ہے، جبکہ فریٹ چارجز یعنی کرایہ کی مد میں 7.16 روپے فی لیٹر شامل کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ یپٹرولیم ڈیلرز، جو پٹرول پمپ چلاتے ہیں، ان کا مارجن بڑھا کر تقریباً 9.50 روپے کیا گیا ہے، کیونکہ ماضی میں ڈیلرز نے احتجاجی ہڑتال کی تھی اور حکومت کے ساتھ مسلسل تین ناکام مذاکرات کے بعد بالآخر ان کے مارجن میں اضافے پر اتفاق ہوا تھا، جس کے بعد یہ ہڑتال ختم ہوئی۔
سب سے بڑا حصہ حکومت کے ٹیکسوں اور لیوی کا ہوتا ہے۔ حکومت فی لیٹر پیٹرول پر 80 روپے پیٹرولیم لیوی وصول کرتی ہے، جبکہ کلائمٹ چینج سپورٹ فنڈ کی مد میں 5 روپے اضافی لیے جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پیٹرول پر مقامی ٹیکس اور مارجن ملا کر 108.67 روپے بنتے ہیں، جبکہ ڈیزل پر 96.86 روپے کے ٹیکس اور مارجن شامل ہوتے ہیں۔ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 70.82 روپے، کلائمٹ لیوی 5 روپے، فریٹ چارجز 4.53 روپے، آئل کمپنیوں کا مارجن 7.87 روپے اور ڈیلر کا مارجن 8.64 روپے فی لیٹر وصول کیا جاتا ہے۔
اس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہری بالخصوص موٹر سائیکل سواروں پر پڑتا ہے۔ ملک میں ڈھائی کروڑ سے زائد موٹر سائیکلوں کی موجودگی کو مدنظر رکھا جائے تو ایک عام شہری جو روزانہ دو سے تین لیٹر پیٹرول استعمال کرتا ہے، وہ ماہانہ تقریباً 18,000 سے 20,000 روپے صرف ٹیکسز اور لیوی کی مد میں حکومت کو ادا کر رہا ہوتا ہے۔
یہ تمام جمع شدہ رقم سرکاری خزانے میں جاتی ہے جس سے حکومت اپنے روزمرہ کے اخراجات، سرکاری پروٹوکول اور ملکی نظام چلاتی ہے، تاہم پیٹرولیم مصنوعات پر ان بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے۔
.png)
1 hour ago
1





English (US) ·