Times of Pakistan

4 جولائی تک تجارتی معاہدہ کرو ورنہ بھاری ٹیرف لگیں گے: ٹرمپ کی یورپی یونین کو دھمکی

1 hour ago 3
ARTICLE AD BOX

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ اگر 4 جولائی تک تجارتی معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہ کیا گیا تو یورپی مصنوعات پر’’انتہائی زیادہ‘‘ ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد کہا ہے کہ یورپی یونین کو امریکا کے ساتھ طے شدہ تجارتی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے 4 جولائی تک کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر سخت اقتصادی اقدامات کیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس ’’تاریخی تجارتی معاہدے‘‘ پر یورپی یونین کی جانب سے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کے تحت یورپی یونین نے اپنی جانب سے ٹیرف میں کمی کی یقین دہانی کرائی تھی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ وقت تک معاہدے پر عمل نہ ہوا تو امریکا یورپی مصنوعات پر “بہت زیادہ” ٹیرف نافذ کر دے گا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کو امریکا کی 250 ویں سالگرہ (4 جولائی) تک کا وقت دیا گیا ہے، جس کے بعد ٹیرف فوری طور پر بڑھا دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں فریقین کے درمیان تجارتی اختلافات پہلے ہی موجود ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ یورپی ساختہ گاڑیوں پر ٹیرف 15 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔

یورپی یونین اور امریکا کے درمیان معاہدے پر عملدرآمد کے لیے قانون سازی کا عمل جاری ہے، تاہم حالیہ مذاکرات میں مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ یورپی پارلیمنٹ میں بعض ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدے میں ایسے حفاظتی اقدامات شامل کیے جائیں جو کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کی صورت میں یورپی یونین کو تحفظ فراہم کریں۔

دوسری جانب رکن ممالک کا مؤقف ہے کہ اصل معاہدے پر جلد از جلد عملدرآمد کیا جائے تاکہ تجارتی استحکام برقرار رہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے گفتگو کے بعد کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان پیش رفت ہو رہی ہے اور جولائی کے آغاز تک ٹیرف میں کمی کی سمت میں پیش رفت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین معاہدے پر مکمل طور پر پرعزم ہے۔

ٹرمپ نے اس فون کال کو “مثبت” قرار دیا، جبکہ برسلز میں حکام کے مطابق فی الحال 25 فیصد ٹیرف کے فوری نفاذ کا امکان کم سمجھا جا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یورپی کمیشن کی صدر نے بھی کہا کہ خطے کی صورتحال عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس پر مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔

Read Entire Article