Times of Pakistan

آبنائے ہرمز میں جھڑپ: ایران کا امریکی فوج کو پیچھے دھکیلنے کا دعویٰ

55 minutes ago 2
ARTICLE AD BOX

آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات امریکی حملے کے جواب میں اس کی بحری اور میزائل فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے امریکی یونٹس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا‘ کے مطابق جمعے کی شب ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز اور جنوبی ایرانی ساحلی علاقوں میں امریکی فوجی کارروائیوں کا فوری جواب دیا۔

ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کے مطابق قشم جزیرے، بندر خمیر اور سیرک کے ساحلی علاقوں میں شہری مقامات پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔

ایرانی فوج کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے دو جہازوں کو نشانہ بنایا اور ایرانی سرزمین پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے امریکی بحری جہازوں پر کارروائی کی۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی کی۔

ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں موجود امریکی یونٹس ایرانی میزائل حملوں سے ہڑبڑا گئے اور انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے ان میزائیل حملوں کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے، جس میں میزائیلوں پر مختلف شہداء کے نام اور تصاویر چسپاں نظر آرہی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق جھڑپوں کے دوران جزیرہ قشم میں واقع بہمن پیئر بھی حملے کی زد میں آیا۔ تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے مزید نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ملک جلد اپنے دشمنوں کے خلاف ’عظیم فتح‘ کا جشن منائے گا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے جاری دباؤ کا دور اختتام کے قریب ہے اور ایران پر عائد پابندیاں بھی جلد ختم ہو سکتی ہیں۔

ان جھڑپوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ایران کے ساتھ جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کسی بھی وقت ایک اہم معاہدے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے سے متعلق خبروں کو ’گمراہ کن پروپیگنڈا‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ذرائع ابلاغ بار بار ایسی اطلاعات پھیلا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

Read Entire Article