Times of Pakistan

اسرائیل کا جنگ بندی کے باوجود لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون سے انخلا نہیں کرے گی اور وہاں کارروائیاں کرنے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی: اسرائیل کاٹز

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون سے واپس نہیں بلائی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج شمالی اسرائیل کے تحفظ کے لیے اپنی موجودہ پوزیشنوں پر برقرار رہے گی اور ضرورت پڑنے پر لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے گی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اتوار کو اپنے بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون سے انخلا نہیں کرے گی اور فوج کو لبنان میں کارروائیاں کرنے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج لبنان میں یلو لائن کے ساتھ قائم سیکیورٹی زون میں تعینات رہیں گی اور وہاں سے دہشت گردوں اور ان کے انفراسٹرکچر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ ان کے بقول حالیہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی فوج اپنی تمام موجودہ پوزیشنوں پر برقرار رہے گی تاکہ شمالی اسرائیل کی بستیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی نافذ ہونے کے ایک روز بعد بھی اسرائیل نے ہفتے کے روز لبنان میں فضائی حملے کیے، جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔

ادھر ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ جب تک لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ ختم نہیں ہوتی، وہ امریکا کے ساتھ کسی وسیع تر معاہدے سے متعلق مذاکرات میں آگے نہیں بڑھے گا۔

دوسری جانب حالیہ دنوں میں اسرائیل کے لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں میں شدت پیدا ہوئی جب کہ جمعہ کو اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان بھی کیا گیا تھا تاہم دونوں فریقوں نے معاہدے کی شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور جنگ بندی کی تفصیلات تاحال عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لبنان کی صورت حال ایران اور امریکا کے درمیان طویل مدتی امن سے متعلق مذاکرات کا بھی اہم حصہ بن چکی ہے۔ ایرانی حکام متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ خطے میں کسی بھی جنگ بندی کا آغاز لبنان میں جنگ بندی سے ہونا چاہیے، جسے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا، ایران اور پاکستان کے وفود آج سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات میں شریک ہیں، جہاں لبنان کی صورت حال پر ہنگامی اجلاس ایجنڈے کا پہلا موضوع ہوگا۔

Read Entire Article