Times of Pakistan

افغانستان پر انحصار ختم، پاکستان نے ایران اور وسط ایشیا کے لیے نیا تجارتی راستہ کھول دیا

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران پر سے عالمی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، تو یہ تجارتی راستہ پاکستان کے لیے ایک بہترین سرمایہ کاری ثابت ہوگا۔

شائع 15 اپريل 2026 02:55pm

پاکستان نے اپنی علاقائی تجارت کو وسعت دینے اور روایتی راستوں پر انحصار کم کرنے کے لیے پاک ایران سرحد پر واقع ’گبد بارڈر ٹرمینل‘ کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) سسٹم کے تحت فعال کر دیا ہے۔

اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب پاکستان، افغانستان کے راستے پر انحصار کیے بغیر ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کر سکے گا، جو کہ نہ صرف ایک مختصر راستہ ہے بلکہ موجودہ حالات میں زیادہ محفوظ اور جدید متبادل بھی ہے۔

اس نئے تجارتی راستے کے زریعے کراچی سے تاشقند (ازبکستان) کے لیے گوشت کے کنٹینرز کی پہلی کھیپ کامیابی کے ساتھ روانہ کر دی گئی ہے۔ کسٹمز کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کنٹینرز ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے راستے اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔

یہ تجارتی راہداری نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) کی جانب سے فعال کی گئی ہے جو اس سے قبل بھی چین، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک تک متعدد تجارتی راہداریاں فعال کر چکی ہے۔

گبد بارڈر کا فعال ہونا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کو متبادل راستوں کی شدید ضرورت تھی۔

گزشتہ سال اکتوبر سے افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور بار بار سرحد کی بندش کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

افغانستان کے راستے بند ہونے کی وجہ سے پاکستان سے وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات رک گئی تھیں، جس نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔

پاکستان کے ساتھ ایران کی 900 کلومیٹر طویل سرحد پر ہمیشہ سے ایک مضبوط غیر رسمی تجارت پہلے سے ہی جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان نے برآمدات کو آسان بنانے کے لیے بینکنگ قوانین میں بھی عارضی نرمی کی ہے۔

عام طور پر برآمد کنندگان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ بینکوں کے ذریعے ادائیگیوں کا ریکارڈ رکھیں، لیکن ایران اور وسطی ایشیا کے لیے بعض اشیا بشمول خوراک، ادویات اور خیموں کی برآمد پر یہ شرط جون 2026 تک ختم کر دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد بیوروکریسی کی رکاوٹیں کم کرنا ہے تاکہ تاجر جلد از جلد اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچا سکیں۔

ازبکستان پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات کی ایک بہت بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔ مالی سال 2025 کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان کی گوشت کی مجموعی برآمدات میں ازبکستان کا حصہ 39 فیصد رہا، جو متحدہ عرب امارات (26 فیصد) سے بھی زیادہ ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر ایران کے ذریعے متبادل راستہ بنانا پاکستان کی معاشی ضرورت بن گیا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران پر سے عالمی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، تو یہ تجارتی راستہ پاکستان کے لیے ایک بہترین سرمایہ کاری ثابت ہوگا۔

اس تمام صورتحال میں این ایل سی کا کردار کلیدی رہا ہے۔ گبد بارڈر ٹرمینل، جو گوادر سے صرف 70 کلومیٹر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، مستقبل میں علاقائی تجارت کا مرکز بن سکتا ہے۔

اگرچہ ابھی بہت سی تجارت غیر رسمی ہے اور شفافیت کے حوالے سے چیلنجز موجود ہیں، لیکن حکومت کی موجودہ پالیسی ”بارٹر ٹریڈ“ (چیز کے بدلے چیز) اور نئے راستوں کی تلاش پر مرکوز ہے تاکہ ملکی پیداوار کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور زرمبادلہ کے نئے ذرائع پیدا کیے جائیں۔

Read Entire Article