Times of Pakistan

امریکا ایران تکنیکی مذاکرات آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوبارہ شروع ہوں گے: مارکو روبیو

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں: امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے 29 یا 30 جون کو سوئٹزر لینڈ میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، جہاں دونوں ممالک کے ماہرین مختلف تکنیکی امور پر بات چیت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے ایران اپنے تمام وعدوں اور معاہدے کی شرائط کی پاسداری کرے گا تاہم اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں۔

بدھ کو کویت سٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کا اگلا مرحلہ تکنیکی سطح پر ہوگا، جس میں مختلف ورکنگ گروپس معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے پر کام کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ تکنیکی ورکنگ گروپ آئندہ ہفتے 29 یا 30 جون کو دوبارہ سوئٹزرلینڈ جائے گا، جہاں مذاکرات کا اگلا مرحلہ منعقد ہوگا، جس میں جوہری پروگرام، ایران پر عائد پابندیوں، ان میں ممکنہ نرمی اور دیگر تکنیکی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ ان کے مطابق ان مذاکرات میں امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ توانائی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ماہرین شریک ہوں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر آئندہ 60 روز کے اندر عمل درآمد شروع کیا جائے گا اور امریکا کو توقع ہے کہ تہران معاہدے کی تمام شرائط اور اپنے تمام وعدوں کی مکمل پاسداری کرے گا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو جلد از جلد ایران میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے کیوں کہ یہ ایران کی جانب سے کیا گیا ایک واضح وعدہ ہے اور اسے اس پر عمل کرنا ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، جن میں پابندیوں کی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ ایک بہتر معاہدہ چاہتا ہے تو واشنگٹن اس کے لیے تیار ہے لیکن یہ معاہدہ اسی صورت آگے بڑھے گا جب تہران اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) اور معاہدے کی تمام شقوں کی مکمل پاسداری کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور وہاں آزاد جہازرانی امریکا کی اولین ترجیح ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس یا کسی بھی قسم کی فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیوں کہ پوری دنیا ایسے کسی اقدام کی مخالفت کرے گی۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس قابل قبول نہیں ہوگا، جب کہ انہیں یقین ہے کہ تمام خلیجی ممالک بھی اس مؤقف کی حمایت کریں گے۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مثبت اثرات عالمی منڈی میں بھی نظر آرہے ہیں اور اسی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی بحری آمد و رفت مکمل طور پر معمول پر آ جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنے خلیجی اتحادیوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے دی گئی سیکیورٹی یقین دہانیاں محض زبانی وعدے نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہیں، اسی لیے انہیں خلیجی ممالک کی جانب سے ان یقین دہانیوں پر کسی قسم کا شک یا شبہ محسوس نہیں ہوا۔

امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے دورے پر ہیں، جہاں وہ ایران سے جاری مذاکرات کے ہر مرحلے پر ان ممالک کو اعتماد میں لے رہے ہیں اور ان کی حمایت حاصل کر رہے ہیں اور اس پورے عمل میں تعاون پر ان کا شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا مذاکرات سے متعلق ہر اہم فیصلے پر اپنے خلیجی شراکت داروں سے مشاورت جاری رکھے گا اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جو خطے میں موجود دیرینہ اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔

مارکو روبیو کے مطابق خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں انتہائی واضح، کھلی اور اہم رہیں جب کہ ایران کے میزائل پروگرام سمیت خطے کے سیکیورٹی معاملات پر امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط مضبوط تعلقات قائم ہیں، ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی اور دفاعی اثاثے موجود ہیں، جس کی وجہ سے امریکی سیکیورٹی ضمانتیں صرف بیانات نہیں بلکہ عملی حقیقت ہیں۔

لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی سے متعلق سوال پر مارکو روبیو نے کہا کہ اسرائیل کے مطابق وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے راکٹ اور ڈرون حملوں کے باعث موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ لبنان کی حکومت اور مسلح افواج اپنے تمام علاقوں پر زیادہ مؤثر کنٹرول حاصل کریں تاکہ حزب اللہ کا اثر و رسوخ کم ہو اور اسرائیلی فوج کی موجودگی کی ضرورت بھی ختم ہو جائے۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ان کے مطابق اسرائیل لبنان کی سرزمین پر کوئی دعویٰ نہیں رکھتا اور جیسے جیسے لبنانی فوج جنوبی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے گی، اسرائیلی موجودگی بھی کم ہوتی جائے گی۔

Read Entire Article