ARTICLE AD BOX
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی سے متعلق مثبت پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق رائے کی خبروں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تین ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل قریب کے معاہدوں میں اس کی قیمت میں 2.02 ڈالر یا 2.4 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد یہ 81.15 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ ایک موقع پر برینٹ خام تیل 80.89 ڈالر فی بیرل تک گرگیا جو 4 مارچ کے بعد کم ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 2.22 ڈالر یا 2.8 فیصد کمی دیکھی گئی جس کے بعد یہ 78.53 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ ایک موقع پر یہ بھی 78.27 ڈالر فی بیرل تک گر گیا تھا جو 10 مارچ کے بعد سب سے کم سطح سمجھی جا رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہوتی یہ کمی اس تاثر کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول پر آنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے اس لیے اس خطے میں کشیدگی یا امن براہِ راست تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر پیش رفت جاری رہتی ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال رہتی ہے تو عالمی توانائی منڈیوں میں سپلائی کے خدشات مزید کم ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
.png)
13 hours ago
1





English (US) ·