ARTICLE AD BOX
اپنی سرزمین پر کی جانے والی فائرنگ برداشت نہیں کریں گے، اسرائیلی وزیراعظم و وزیر دفاع
اپ ڈیٹ 14 جون 2026 06:10pm
اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے دحیہ میں حزب اللہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس پر ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا یا تو وعدہ نبھانے میں پختہ نہیں یا پھر اس کی اہلیت ہی نہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر دستخط متوقع ہیں جب کہ خطے میں سیکیورٹی صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔
اسرائیلی خبر رساں ادارے یروشلم پوسٹ کے مطابق اتوار کو اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی علاقے دحیہ میں حزب اللہ کے اہداف پر حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اسرائیلی علاقے کی جانب حزب اللہ کی فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ”اسرائیل اپنی سرزمین پر کی جانے والی فائرنگ برداشت نہیں کرے گا۔“
اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں دحیہ میں واقع حزب اللہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جسے تنظیم کی جانب سے اسرائیلی شہریوں اور جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دحیہ میں اسرائیلی حملے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں باقر قالیباف نے لکھا کہ صیہونیوں کی دحیہ میں دراندازی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکا یا تو اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں یا پھر ان پر عملدرآمد کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو گرین سگنل دے کر کسی قسم کی رعایت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول خطے کی صورت حال نے واضح کر دیا ہے کہ ”اچھے اور برے سپاہی“ کا روایتی کھیل اب پرانا ہو چکا ہے۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ اگر کوئی فریق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی نہ صلاحیت رکھتا ہو اور نہ ہی اس کا ارادہ ہو تو پھر اس راستے پر آگے بڑھنے یا بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم ایرانی اسپیکر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ موجودہ صورت حال میں اعتماد سازی اور مذاکرات کے عمل کے لیے عملی اقدامات اور وعدوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کا راستہ ”صہیونی حکومت کو قابو میں لانے“ سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ اگر ”اس پاگل کتے“ کو قابو میں نہ لایا گیا تو معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی یہ دوبارہ حملہ آور ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اتوار کی صبح حزب اللہ کی جانب سے کئی ڈرون اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جس کے بعد شمالی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
اس پیش رفت کے بعد اسرائیلی حکومت کے متعدد وزرا نے حزب اللہ اور دحیہ کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔ وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹرچ نے حکومت پر زور دیا کہ دحیہ پالیسی پر ”مضبوطی اور فیصلہ کن انداز“ میں عمل کیا جائے۔
اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں حزب اللہ کے خلاف مزید سخت ردعمل کی حمایت کی۔
دوسری جانب گزشتہ ہفتے ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کی کارروائیاں لبنان میں اسرائیلی اقدامات کے جواب میں کی گئی تھیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حملے جاری رکھے تو اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کو دستخط متوقع ہیں اور معاہدے کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھول دی جائے گی۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ہفتے کے روز کہا تھا کہ امریکا اور ایران ایک امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں اور معاہدے کا حتمی متن تیار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں الیکٹرانک دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·