Times of Pakistan

امریکا حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر کے ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو معاہدہ ہونا ممکن ہے: صدر مسعود پزشکیان

1 week ago 3
ARTICLE AD BOX

شائع 13 اپريل 2026 08:45am

اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد ایرانی قیادت کی جانب سے اہم بیانات سامنے آئے ہیں جن میں ایک طرف مستقبل کے لیے امید ظاہر کی گئی ہے تو دوسری طرف مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

صدر پزشکیان نے مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ارکان بالخصوص اپنے عزیز بھائی ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں مزید ہمت اور طاقت عطا فرمائے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ان مذاکرات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سینتالیس سالوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اتنے اعلیٰ درجے پر براہ راست بات چیت ہوئی۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے اس جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ انتہائی نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے اور صورتحال یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ فریقین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے سے محض چند قدم ہی دور تھے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس اہم موڑ پر ایران کو امریکا کی جانب سے حد سے بڑھے ہوئے مطالبات، بدلتے ہوئے مؤقف اور ناکہ بندی جیسے رویوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے معاملہ حل نہ ہو سکا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واشنگٹن کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پوری صورتحال سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سیاست میں نیک نیتی ہمیشہ نیک نیتی کو جنم دیتی ہے جبکہ دشمنی کا جواب دشمنی کی صورت میں ہی ملتا ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق ایران اب بھی امن کی کوششوں میں سنجیدہ ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ دوسری طرف سے بھی اسی طرح کی سنجیدگی اور احترام کا مظاہرہ کیا جائے۔

Read Entire Article