ARTICLE AD BOX
ماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا: ایرانی سینئر کمانڈر جعفر اسدی
ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں شروع کی گئی جنگ 8 اپریل سے تعطل کا شکار ہے، جبکہ اس دوران پاکستان میں ایک ناکام مذاکراتی دور بھی ہو چکا ہے۔
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے کہا کہ ایران نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا، تاہم وہ کسی بھی مسلط کردہ امن معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔
ایرانی تجویز کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں عارضی طور پر تقریباً 5 فیصد کمی آئی، تاہم یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش ہے، جس پر ایران کا کنٹرول ہے اور جنگ کے آغاز سے یہ اہم تجارتی راستے بند ہے۔
امریکا نے اس کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اس اقدام سے ایران کی 6 ارب ڈالر کی تیل برآمدات رک چکی ہیں، جبکہ ملک میں مہنگائی 50 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔
جمعہ کو فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ایران کے ساتھ جاری جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔
.png)
1 hour ago
2






English (US) ·