Times of Pakistan

امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، پیدائشی شہریت محدود کرنے کا حکم نامہ مسترد

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

عدالت نے آئین کی 14 ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ امریکی شہری ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا قانونی جھٹکا دیتے ہوئے پیدائشی شہریت کے حق (برتھ رائٹ سٹیزن شپ) کو محدود کرنے کا صدارتی حکم نامہ مسترد کردیا ہے۔ عدالت نے آئین کی 14 ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ امریکی شہری ہے۔

دوسری بار صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ایسے متنازع ایگزیکیٹو آرڈرز جاری کیے جن سے تارکین وطن کے لیے بڑی مشکلات کھڑی ہوگئی تھیں۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کی سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تارکین وطن سے متعلق صدارتی حکم کالعدم قرار دے دیا۔

ٹرمپ کے اس صدارتی حکم نامے کے تحت غیر قانونی یا عارضی حیثیت رکھنے والے تارکین وطن کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت سے محروم کیا جانا تھا۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کا ایسا اقدام ملکی آئین کی 14ویں ترمیم سے متصادم ہے۔

نو رکنی عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے قرار دیا کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم تقریباً ہر ایسے بچے کو شہریت کی ضمانت دیتی ہے جو امریکی سرزمین پر پیدا ہو خواہ اس کے والدین کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو۔

امریکی عدالت کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آئین کی نئی تشریح کے حق میں خاطر خواہ قانونی یا تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے 1898 کے تاریخی مقدمے امریکا ورسیز وی ونگ  کم آرک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ایک صدی سے زائد عرصے سے پیدائشی شہریت کے اصول کو مضبوط قانونی بنیاد فراہم کر رکھی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ 14ویں ترمیم صرف ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جن کے والدین امریکا سے مستقل وفاداری یا قانونی وابستگی رکھتے ہوں تاہم امریکی سپریم کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی زبان اور گزشتہ ڈیڑھ صدی کی عدالتی نظیر اس تشریح کی تائید نہیں کرتی۔

یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کیلیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے کیوں کہ پیدائشی شہریت کو محدود کرنا ان کی سخت گیر امیگریشن حکمت عملی کا اہم حصہ تھا۔ سپریم کورٹ اس سے قبل بھی رواں سال ٹرمپ انتظامیہ کے عالمی ٹیرف سے متعلق ایک بڑے اقدام کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد پیدائشی شہریت کے اصول میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے صرف صدارتی حکم کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے آئینی ترمیم یا کانگریس کے ذریعے ایسا قانون درکار ہوگا جو آئینی تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہو۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ صدر ٹرمپ کے اُس ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف دائر کیا گیا تھا، جس میں وفاقی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو امریکی پاسپورٹ، شہریت اور دیگر قانونی حقوق نہ دیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا غصہ چین پر اتار دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے چین اور چینی قیادت پر طنز سے بھری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ صدر شی جن پنگ اور عظیم ملک چین کو پیدائشی شہریت کے حق کا کیس جیتنے پر مبارکباد دیتا ہوں، یہ بہت بڑی فتح ہے۔

اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا پیدائشی شہریت کا حق برقرار رکھنا ہمارے ملک کے لیے بہت افسوسناک ہے۔

ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم کانگریس میں قانون سازی کے ذریعے اپنے فیصلے کو باآسانی پورا کرسکتے ہیں، اس میں کسی طویل اور  پیچیدہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، کانگریس کو پیدائشی شہریت کا حق ختم کرنے کے لیے آج ہی سے کام شروع کر دینا چاہیے۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ پیدائشی شہریت کا حق ہمارے ملک کے لیے مہنگا اور غیر منصفانہ ہے، کانگریس کو میری مکمل اور  بھرپور حمایت حاصل ہوگی۔

Read Entire Article