Times of Pakistan

امریکی سیاح جنازے کے کھانے کو ریسٹورنٹ سمجھ بیٹھے، دلچسپ صورتحال وائرل

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

شائع 11 اپريل 2026 10:45am

کبھی کبھی زبان سے اجنبیت انسان کو ایسے مقامات پر لے جاتی ہے جہاں سے واپسی پر ایک انوکھی کہانی بھی ساتھ آتی ہے۔ ایسا ہی کچھ مشہور امریکی یوٹیوبر ’لڈوِگ‘ اور ان کے ساتھی کے ساتھ ہوا، جو چین کی سیر کے دوران بھوک مٹانے کے چکر میں ایک ایسی دعوت میں جا بیٹھے جو دراصل ایک جنازے کی تقریب تھی۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق امریکی یوٹیوبر لڈوِگ اپنے دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر چین کے مختلف علاقوں کی سیر کر رہے تھے۔

ان کا سفر جنوبی چین سے شروع ہو کر شمالی علاقوں تک جانا تھا، تاہم راستہ بھٹکنے کے باعث وہ صوبہ ہنان کے ایک گاؤں میں جا نکلے۔

یہ ان کا جنوبی چین سے اندرونی منگولیا کا طویل سفر تھا۔ سفر کے پانچویں دن جب وہ صوبہ ہونان کے ایک دیہی علاقے سے گزر رہے تھے، تو بھوک اور تھکن سے نڈھال سیاحوں کی نظر ایک ایسی جگہ پڑی جہاں سرخ لالٹینیں لگی تھیں اور لوگوں کا ہجوم تھا۔

دراصل گاوں میں اس وقت ایک خاص قسم کی روایتی تقریب جاری تھی جسے“ہیپی فیونرل“ کہا جاتا ہے۔

یہ دراصل ایک ایسی رسم ہے جس میں 90 سال یا اس سے زائد عمر پانے والے شخص کی وفات پر غم کے بجائے اس کی طویل اور کامیاب زندگی کو خوشی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

سیاحوں کو یہ نہیں معلوم تھا۔ انہوں نے اسے ایک جدید ریستوران سمجھا اور کھانے کی تلاش میں وہاں جا کر ٹوٹی پھوٹی چینی زبان میں سوال کیا، ”کیا ہم یہاں کھانا کھا سکتے ہیں؟“

ایک لی نامی شہری نے وضاحت کی کہ وہاں 104 سالہ بزرگ کی آخری رسومات ہو رہی ہیں۔ زبان کے فرق کی وجہ سے وہ صورتحال کو صحیح طور پر سمجھ نہ سکے۔ ابتدا میں سیاحوں کو غلط فہمی ہوئی کہ شاید وہ شخص ابھی زندہ لیکن بیمار ہے۔

چونکہ دوپہر کے 3 بجے قریبی ریستوران بند تھے، اس لیے مقامی شہری لی نے روایتی چینی مہمان نوازی کی مثال قائم کرتے ہوئے ان اجنبیوں کو اپنے گھر مدعو کر لیا۔

لی کے والد، جو ایک ریٹائرڈ شیف تھے، انہوں نے امریکیوں کے لیے گھر کا تیار کردہ لذیذ کھانا پیش کیا۔ جس میں بریزڈ پورک، فرائی انڈے اور سبزیاں شامل تھیں۔

سیاحوں نے بتایا کہ وہ عام طور پر ’پورک بیلی‘ نہیں کھاتے، لیکن اس دن انہوں نے پلیٹیں صاف کر دیں۔

لڈوِگ نے جب اس انوکھے تجربے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی تو اسے لاکھوں بار دیکھا گیا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ انسانیت اور مہمان نوازی کی کوئی سرحد یا زبان نہیں ہوتی۔

یہ سفر جو ایک غلط فہمی سے شروع ہوا تھا، دو مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک خوبصورت تعلق اور دوستی پر ختم ہوا۔

امریکی سیاحوں نے نہ صرف ایک انوکھی ثقافت کو قریب سے دیکھا بلکہ چینی دیہاتیوں کی بے لوث محبت کا ذائقہ بھی چکھا اور رخصت ہوتے وقت رابطے کے لیے ایک دوسرے کے نمبر بھی شیئر کیے۔

Read Entire Article