Times of Pakistan

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پابندی کے باوجود چین کیسے پہنچ گئے؟

4 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

مارکو روبیو پہلے امریکی ہیں جو چین کی پابندیوں کے باوجود سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین پہنچ گئے ہیں۔ مارکو روبیو اب بھی چین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں تاہم چینی حکام کی ایک معمولی مگر دلچسپ حکمت عملی نے ان کی چین آمد کا سفارتی راستہ ڈھونڈ نکالا، جس کے بعد وہ پہلی مرتبہ چین کے دورے پر پہنچ چکے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بدھ کی شام صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین خصوصی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں بیجنگ پہنچے ہیں۔ ان کی بیجنگ آمد سے ایک انوکھی سفارتی صورتِ حال نے جنم لیا ہے، کیوں کہ تکنیکی طور پر ان پر چین میں داخلے پر پابندی عائد ہے۔

برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق مارکو روبیو امریکی تاریخ کے پہلے وزیرِ خارجہ بن گئے ہیں جو بیجنگ کی جانب سے عائد سفری اور سفارتی پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل ہونے کے باوجود سرکاری دورے پر چین پہنچے ہیں۔

مارکو روبیو کا آبائی تعلق کیوبا سے ہے اور طویل عرصے تک چین کے سخت ترین ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی سینیٹر کے طور پر چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خصوصاً ایغور مسلم اقلیت کے ساتھ سلوک اور ہانگ کانگ میں کریک ڈاؤن کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔

مارکو روبیو نے کانگریس میں ایسی قانون سازی میں بھی مرکزی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں چین پر امریکی پابندیاں عائد ہوگئی تھیں۔

جواب میں چین نے جولائی 2020 میں مارکو روبیو کو بلیک لسٹ میں شامل کرکے چین میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔ بعد ازاں اگست 2020 میں ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر کے خلاف بیانات پر چین نے مارکو روبیو کو دوبارہ پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

تاہم صدر ٹرمپ کے موجودہ دورۂ چین سے قبل چینی حکام اور سرکاری میڈیا نے مارکو روبیو کے دورے کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی مگر دلچسپ حل نکالا اور چینی زبان میں ان کے نام کے ہجّے تبدیل کردیے۔

چوں کہ مارکو روبیو پرعائد پابندیاں ان کے پرانے چینی نام کے ہجّے پر درج تھیں، اس لیے چین نے پابندی کو تکنیکی طور پر ختم کیے بغیر صرف نام کا کریکٹر بدل کر انہیں بیجنگ آنے کی اجازت دے دی۔

چینی حکام نے امریکی وزیرِ خارجہ کے خاندانی نام ’روبیو‘ کا پہلا لفظ تبدیل کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ناموں کا تلفظ تقریباً ایکی سا ہی ہے، لیکن لکھتے وقت ذرا سی تبدیلی نے قانونی اور سفارتی طور پر اس مسئلے کو حل کردیا ہے۔

پہلے انہیں چینی زبان میں (Lú bǐ ào) لکھا جاتا تھا، اب تبدیلی کے بعد سرکاری دستاویزات اور میڈیا میں انہیں (Lǔ bǐ ào) لکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مارکو روبیو کے معاملے میں چینی زبان کے ایک حرف کی تبدیلی بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے، لیکن سفارت کاری میں بعض اوقات ایسے ’لسانی حل‘ بڑے سیاسی تعطل ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سفارتی حکمت عملی تھی تاکہ امریکی وزیر خارجہ کے داخلے پر عائد پابندیوں کے باوجود انہیں اسٹیٹ وزٹ کا حصہ بننے دیا جائے۔

چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے بھی اس حوالے سے واضح کیا کہ چینی پابندیاں ’مارکو روبیو‘ کے ان بیانات اور کاموں کی وجہ سے تھیں جو انہوں نے بطور امریکی سینیٹر چین کے خلاف دیے تھے تاہم اب چین ان کے ماضی کے افعال کی بنیاد پر دورے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

اگرچہ ماضی میں مارکو روبیو ’اینٹی چائنہ‘ مؤقف کے حامل اور کمیونزم کے سخت مخالف رہے ہیں، لیکن سیکرٹری آف اسٹیٹ بننے کے بعد سے وہ صدر ٹرمپ کی انسانی حقوق کے بجائے تجارتی تعلقات اور معاشی مفادات کو ترجیح کی پالیسی کے حامی نظر آتے ہیں۔ تاہم تائیوان کے حوالے سے اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے لیے تائیوان کی جمہوری خود مختاری پر سودے بازی نہیں کرے گی۔

بدھ کے روز بیجنگ میں صدر شی جن پنگ اور چینی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی مارکو روبیو کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔ صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات میں تجارت، تائیوان، مصنوعی ذہانت، ایران جنگ اور جدید ٹیکنالوجی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔

Read Entire Article