ARTICLE AD BOX
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بحران کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا برطانوی جہاز پر بھی فائرنگ کی گئی ہے 
مشرق وسطیٰ اس وقت ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں جغرافیائی سیاست، عسکری حکمت عملی اور عالمی معیشت ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو چکے ہیں کہ کسی ایک شعبے میں معمولی ارتعاش بھی پوری دنیا میں شدید ردعمل پیدا کر رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے خطے میں تیسرے طیارہ بردار جہاز کی تعیناتی، آبنائے ہرمز میںعسکری برتری کے دعوے اور ایران کے خلاف سخت بیانات نے صورتحال کو اس حد تک کشیدہ بنا دیا ہے کہ عالمی مبصرین اسے ایک ممکنہ بڑے تصادم کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ اس کے مقابل ایران کی قیادت، خصوصاً مسعود پزشکیان اور مجتبیٰ خامنہ کی جانب سے داخلی اتحاد اور مزاحمت پر زور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اس دباؤ کو محض عسکری چیلنج نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کے خلاف ایک ہمہ جہتی مہم سمجھ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بحران کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ ایک طرف وہ ایران کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ امریکا کو جنگ کے خاتمے کی کوئی جلدی نہیں، دوسری طرف ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے کا عندیہ دے کر ایک مخصوص حد بندی بھی قائم کرتے ہیں۔ یہ طرزِ بیان دراصل جدید عالمی سیاست میں طاقت کے استعمال کے بدلتے ہوئے انداز کی عکاسی کرتا ہے، جہاں براہ راست جنگ کے بجائے دباؤ، معاشی پابندیوں، محدود عسکری کارروائیوں اور نفسیاتی حربوں کے ذریعے حریف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز جیسے عالمی اہمیت کے حامل راستے پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے اور یہ عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔آبنائے ہرمز کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے جغرافیائی اور اقتصادی کردار کا ادراک ضروری ہے۔ یہ آبی گزرگاہ نہ صرف خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے بلکہ دنیا کی توانائی کی فراہمی کا ایک مرکزی راستہ بھی ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہ راست عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ موجودہ بحران کے دوران یومیہ تقریباً 13 ملین بیرل سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جبکہ معمول کے مطابق گزرنے والا 15 ملین بیرل خام تیل اور 5 ملین بیرل ریفائنڈ مصنوعات بھی خطرے میں پڑ چکی ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔توانائی کی منڈیوں میں اس کشیدگی کا فوری اثر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں غیر یقینی اور خوف کی فضا غالب ہے۔ اس اضافے میں صرف رسد کی کمی نہیں بلکہ ایک نمایاں جغرافیائی خطرے کا عنصر بھی شامل ہے، جسے ماہرین ’’رسک پریمیم‘‘ قرار دیتے ہیں۔ جب مارکیٹ کو یہ خدشہ لاحق ہو کہ سپلائی کسی بھی وقت مزید متاثر ہو سکتی ہے تو قیمتیں حقیقی طلب و رسد سے ہٹ کر بھی بڑھ جاتی ہیں۔ یہی صورتحال اس وقت دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں توانائی کی قیمتیں عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔توانائی کی قیمتوں میں اس اضافے کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری معیشت میں سرایت کر جاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، صنعتی پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے اور زرعی شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ یوریا، ایلومینیم اور فاسفیٹ جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ بحران صنعتی اور زرعی دونوں شعبوں کو متاثر کر رہا ہے۔ زرعی لاگت میں 20 فیصد تک اضافہ مستقبل میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، جو عالمی سطح پر غذائی تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے، جن میں وبا کے بعد کی معاشی سست بحالی، سپلائی چین کی رکاوٹیں اور مالیاتی پالیسیوں کی سختی شامل ہیں۔ ایسے میں آبنائے ہرمز کا بحران ایک اضافی دباؤ کے طور پر سامنے آیا ہے، جو ان تمام مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ امریکا میں افراطِ زر کی شرح میں حالیہ اضافہ اور شرح سود میں ممکنہ تاخیر کے خدشات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مالیاتی پالیسیوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ یورپ میں بھی توانائی کی قیمتیں مہنگائی کے رجحانات کو تبدیل کر رہی ہیں، جہاں کئی ماہ کے استحکام کے بعد دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں مہنگائی کے رجحانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ توانائی کی قیمتیں کس طرح معیشت کے دیگر شعبوں کو متاثر کرتی ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو نہ صرف صنعتی پیداوار بلکہ خدمات کا شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے اور مجموعی اقتصادی سرگرمی سست پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اس بحران کو نہایت سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کے لیے یہ بحران خاص طور پر تشویشناک ہے۔ عراق، قطر، کویت اور بحرین جیسے ممالک کی برآمدات میں نمایاں کمی اور آمدنی میں اربوں ڈالر کی کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بحران خطے کی اقتصادی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔ روزانہ تقریباً 2 ارب ڈالر کی آمدنی متاثر ہونا کسی بھی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جبکہ انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات اس بحران کے طویل المدتی اثرات کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ عراق کی برآمدات کا 3.6 ملین بیرل سے کم ہو کر 0.2 سے 0.3 ملین بیرل رہ جانا اس بحران کی شدت کو واضح کرتا ہے۔قطر کی معیشت بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوئی ہے، جہاں گیس کی برآمدات میں کمی کے باعث ماہانہ اربوں ڈالر کی آمدنی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ کویت اور بحرین جیسے ممالک کی برآمدات بھی رکنے کے قریب ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی مالیاتی صورتحال پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا بحران صرف ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی اقتصادی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ عالمی سپلائی چین پر اس بحران کے اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔ تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں کمی نے نہ صرف توانائی بلکہ دیگر اشیاء کی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی تجارت کی رفتار سست پڑ رہی ہے اور مختلف ممالک میں اشیاء کی قلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ کھاد کی عالمی تجارت کا ایک تہائی متاثر ہونا زرعی پیداوار کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، جو آنے والے مہینوں میں غذائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔اس صورتحال میں عالمی مالیاتی منڈیوں کا ردعمل بھی خاصا اہم ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ ایک طرف وہ خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، دوسری طرف توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اس کی معیشت پر شدید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ چونکہ پاکستان توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر اس کی مہنگائی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مہنگائی میں اضافہ اور صنعتی لاگت میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی کھلی جنگ سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے سخت بیانات کے باوجود فوری جنگ کی خواہش کا فقدان اور ایران کی جانب سے دفاعی حکمت عملی کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رکھنے کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق دباؤ کے ذریعے بہتر مذاکراتی پوزیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو امید کی ایک کرن پیدا کرتا ہے کہ اگر مناسب سفارتی کوششیں جاری رہیں تو اس بحران کو ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔چین اور روس جیسی عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چین، جو خلیجی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، اس بحران کے باعث اپنی توانائی کی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ روس کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہو سکتی ہے، جہاں وہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، مگر طویل المدتی عدم استحکام اس کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین کے لیے بھی یہ بحران ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں مصروف ہے۔ بالآخر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ طاقت کے ذریعے وقتی برتری حاصل کی جا سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام صرف مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آبنائے ہرمز کا بحران اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ عالمی نظام کو درپیش چیلنجز کا حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی ہے، اگر عالمی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کر لے اور اس کے مطابق اقدامات کرے تو نہ صرف اس بحران کو ٹالا جا سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ مستحکم اور متوازن عالمی نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
.png)
1 day ago
2




English (US) ·