ARTICLE AD BOX
جو بھی پارٹی پاکستان میں مہاجرین کی ان 12 نشستوں پر جیت حاصل کرتی ہے، وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جاتی ہے۔
آزاد کشمیر میں 27 جولائی 2026 کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، لیکن اس انتخابی مہم میں سب سے بڑا بحث کا موضوع وہ 12 نشستیں بن چکی ہیں جو پاکستان میں رہنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔
فرض کریں، ایک شخص کراچی میں پیدا ہوا، اس نے کبھی کشمیر کی زمین پر قدم بھی نہیں رکھا، لیکن اس کے پاس ایک ایسا شناختی کارڈ موجود ہے جس کے ذریعے وہ یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ کشمیر کی حکومت کون چلائے گا۔
یہ سارا معاملہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ان 12 مخصوص نشستوں کا ہے جن پر پاکستان کے مختلف شہروں جیسے کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں رہنے والے کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالتے ہیں۔
اس معاملے کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے 1947 کی تاریخ میں جانا پڑے گا۔
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم اور 1947 کی جنگ کے بعد آزاد جموں و کشمیر وجود میں آیا، جس کا ایک نیم خودمختار نظام اور اسمبلی ہے۔ اس اسمبلی کی کل 53 نشستیں ہیں، جن میں سے 33 پر آزاد کشمیر کے اندر رہنے والے تقریباً ساڑھے 44 لاکھ مقامی لوگ ووٹ ڈالتے ہیں، جبکہ 12 نشستیں پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے ہیں اور 8 نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں۔
جب 1947 اور 1965 کی جنگوں میں لاکھوں کشمیری ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے، تو اس وقت ان مہاجرین کو بھی آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی دی گئی۔
مقصد یہ تھا کہ مظفرآباد کی حکومت صرف اس آزاد پٹی کی نہیں، بلکہ پورے جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت کہلائے۔
آج کے دور میں یہ مہاجرین کوئی کیمپوں میں رہنے والے بے وطن لوگ نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کے وہ باقاعدہ شہری ہیں جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں، جو یہیں ٹیکس دیتے ہیں اور ان کی تیسری نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے۔ ان رجسٹرڈ مہاجر ووٹرز کی تعداد ساڑھے 4 لاکھ سے زیادہ ہے۔
اب بڑا مسئلہ ان حلقوں کا جغرافیہ ہے۔ یہ ووٹرز کسی ایک جگہ نہیں بلکہ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔
مثال کے طور پر جموں ون نامی ایک ہی انتخابی حلقہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے 48 اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ کوئی بھی امیدوار 48 اضلاع میں انتخابی مہم کیسے چلا سکتا ہے، اور مظفرآباد میں بیٹھا الیکشن کمیشن کراچی یا ملتان میں ہونے والے الیکشن کی نگرانی کیسے کرے گا؟
یہی وہ کمزوری ہے جہاں سے دھاندلی کے الزامات جنم لیتے ہیں۔
اس بحران کا سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ اسلام آباد میں جو بھی پارٹی برسرِاقتدار ہوتی ہے، وہ ان 12 نشستوں کو آزاد کشمیر میں اپنی من پسند حکومت بنانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
اس حوالے سے خود آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اس تشویش کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ نشستیں ہیر پھیر کے لیے بنائی گئی ہیں کیونکہ ان کے انتخابات صوبائی حکومتوں کے اثر و رسوخ کے تحت ہوتے ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں مبینہ طور پر کھلے عام یہ مانا تھا کہ ان کی پارٹی انتظامی اقدامات کے ذریعے پنجاب کی دس مہاجر نشستیں حاصل کر کے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس تحریک کو اس وقت بہت زیادہ طاقت ملی جب جولائی 2025 میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے اگلے ہی دن ایک بڑا بیان دیا۔
سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے کہا کہ یہ نشستیں سو فیصد غیر قانونی ہیں اور انہیں اسلام آباد سے اس لیے تیار کیا گیا تھا تاکہ آزاد کشمیر میں رہنے والے 45 لاکھ لوگوں کے ووٹ کی طاقت کو کم کیا جا سکے۔
ان کے اس بیان کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی عوامی تنظیم نے ان نشستوں کو ختم کرنے کے لیے ہڑتالوں کا اعلان کر دیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان انتخابی حلقوں کا استعمال ایسے افراد کر رہے ہیں جن کا ہجرت کرنے والے خاندانوں سے کوئی حقیقی تعلق ہی نہیں ہے۔
اسی تنظیم کے ایک اور رہنما ایڈووکیٹ راجہ امجد علی خان نے کہا کہ یہ نشستیں بدعنوانی اور سیاسی موقع پرستی کا گڑھ بن چکی ہیں۔
جون 2026 کے آغاز میں یہ تنازع اس وقت ایک خطرناک موڑ اختیار کر گیا جب حکومت اور سول سوسائٹی کے اتحاد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان نو گھنٹے طویل مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اس کے فوراً بعد آزاد کشمیر اسمبلی نے ان نشستوں کے حق میں ایک قرارداد منظور کی، اور ایک آل پارٹیز کانفرنس نے بھی اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔
اس کے بعد پانچ جون 2026 کو آزاد کشمیر حکومت نے جے اے اے سی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک کالعدم تنظیم قرار دے دیا کیونکہ اس تنظیم نے نو جون کو کاغذاتِ نامزدگی جمع ہونے کے دن ملک گیر ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔
دوسری طرف، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اس مطالبے پر کہا کہ یہ مطالبہ کرنے والے لوگوں کو اسے 27 جولائی کو ووٹرز کے سامنے پیش کرنا چاہیے، یہی جمہوری طریقہ ہے، ورنہ اسے سیاسی بلیک میلنگ کے طور پر دیکھا جائے گا۔
خواجہ آصف نے 1947 کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اکتوبر 1947 میں یہ مہاجرین دو لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دے کر سیالکوٹ شہر اور تحصیل میں آباد ہوئے تھے، لاکھوں خواتین کی عفت کو نقصان پہنچایا گیا اور ہزاروں بیٹیاں اغوا ہوئیں، ہم ان مہاجرین کو ان کے جائز نمائندگی کے حق سے کیسے محروم کر سکتے ہیں؟
انہوں نے لکھا کہ اب 27 جولائی کے انتخابات ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ 12 نشستیں کشمیر کا سیاسی مستقبل کس رخ پر موڑتی ہیں۔
حکومت نے اس قانونی الجھن کو سلجھانے کے لیے اب سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں ایک ریفرنس دائر کر دیا ہے تاکہ عدالت سے یہ رائے لی جا سکے کہ ان نشستوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے یا پھر انہیں صرف ایک علامتی نمائندگی کی حد تک برقرار رکھا جائے جہاں انہیں ووٹ کا حق نہ ہو۔
واضح رہے یہ 12 نشستیں اسمبلی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہیں، اس لیے جو بھی پارٹی پاکستان میں ان مہاجرین کی نشستوں پر جیت حاصل کرتی ہے، وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں جیسے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ان نشستوں پر زیادہ اثر رکھتی ہیں۔
اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کے فیصلے اور 27 جولائی 2026 کے الیکشن کے دن پر لگی ہیں کہ کیا یہ مہاجرین ایک بار پھر کشمیر کی نئی حکومت کا فیصلہ کریں گے یا نظام میں کوئی تبدیلی آئے گی۔
.png)
52 minutes ago
3






English (US) ·