ARTICLE AD BOX
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای چاہیں تو ان سے براہ راست بات کرنے کو تیار ہوں اور معاہدے سے متعلق دعویٰ کیا کہ دونوں فریق معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ اگر وہ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے تو دونوں ممالک کے درمیان تین ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا اور امریکا ایران کے ساتھ مل کر اس کے انتہائی افزودہ یورینیم کو نکالنے اور تباہ کرنے کے لیے کام کرے گا اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایرانی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کریں گے تاکہ امریکی افواج خود محفوظ طریقے سے اس مواد کو جمع کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم کوئی ایسا معاہدہ کر لیتے ہیں جس کے بعد ہمارے تعلقات دوستانہ ہو جائیں تو ہم سب مل کر یہ کام کریں گے اور ہم یورینیم نکال کر تباہ کریں گے، چاہے وہ وہیں تباہ کیا جایا یا پھر کسی اور جگہ لے جا کر تباہ کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم ان کے ساتھ جائیں گے یا ان کے بغیر لیکن وہاں کوئی ہم پر فائرنگ نہیں کرے گا اگر ہم معاہدہ نہیں کرتے ہیں، تو ہم انہیں بدترین فوجی کارروائی کے ذریعے نشانہ بنائیں گے، پھر جب حالات محفوظ ہوں گے تو ہم خود جا کر یہ کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس اسپیس فورس کے ذریعے خلا میں نصب کیمرے موجود ہیں، ہمارے پاس وہاں ہر جگہ کیمرے موجود ہیں اور میں ان کے بیج پر لکھا ہوا نام بھی پڑھ سکتا ہوں یہ خلا میں موجود کیمرے ہیں۔ مستقل جنگ بندی اور ممکنہ معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ خطے میں امریکی فوج معاملے کی تکمیل تک خطے میں تعینات رکھنا چاہتے ہیں اور امریکی فوج کو اس وقت وہاں کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق معاہدے کے بہت قریب ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ایران اپنی جوہری خواہشات سے مکمل طور پر دستبردار ہو، ہمارے درمیان صرف چند نکات باقی ہیں اور ایران یہ تسلیم کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا لیکن میں چاہتا ہوں کہ معاہدے میں یہ بھی شامل ہو کہ وہ جوہری ہتھیار خریدنے، حاصل کرنے یا کسی اور ذریعے سے بھی نہیں لے سکے گا جبکہ ایران نے ابتدا میں اس مطالبے پر کچھ اعتراض کیا لیکن بعد میں وہ مان گیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کے بارے میں کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے کئی قریبی ساتھیوں کی شہادت کے بعد نئی قیادت زیادہ عقل مند اور عملی نظر آتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای اور وہ معاہدے کی منظوری کے عمل کا حصہ ہیں اور اگر مجتبیٰ خامنہ ای چاہیں تو وہ ان سے براہ راست بات کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جوان ہیں، میرے خیال میں زیادہ عقل مند ہیں، حالانکہ وہ زخمی بھی ہیں اور کافی بری طرح زخمی ہیں اس کے باوجود وہ امریکا کے ساتھ معاملات پر بات کر رہے ہیں، اس میں ایک طرح کی بہادری ہے، میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ مجھے ان کی رہائش کے بارے میں معلوم ہے یا نہیں لیکن بڑی حد تک امکان ہے کہ مجھے معلوم ہو۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ان کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، ان کے پاس کچھ میزائل اور کچھ ڈرون باقی ہیں، میرے خیال میں ان کے پاس جنگ سے پہلے کے ذخیرے کا صرف 21 یا 22 فیصد باقی بچا ہے، اس کے باوجود تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی خطے میں موجود رہیں گے، انہیں وہاں رکھنے کے لیے ہمارے اخراجات بہت کم ہیں، انہیں واپس بلانا غیر دانش مندانہ ہوگا کیونکہ ممکن ہے ہمیں مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کے لیے ان کی ضرورت پڑے۔
.png)
8 hours ago
1





English (US) ·