ARTICLE AD BOX
ہوائی اڈوں پر پوشیدہ گندگی: فن لینڈ کے ایک ہوائی اڈے پر اس سلسلے میں ایک تحقیق بھی کی گئی ہے۔
ہوائی سفر اکثر جلدی اور بے ترتیبی کے احساس کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ مسافر وقت پر پہنچنے کی دوڑ میں ہوتے ہیں، لمبی قطاروں سے گزرتے ہیں اور پھر سیکیورٹی چیک کے مرحلے پر پہنچ کر اپنی تمام توجہ اس بات پر مرکوز رکھتے ہیں کہ ان کا سامان بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ جائے۔
لیپ ٹاپ نکالنا، لیکوئڈ الگ کرنا، بیلٹ اتارنا اور ہر چیز کو پلاسٹک کی ٹرے میں رکھ دینا ایک معمول بن چکا ہے۔ لیکن اس تمام ہنگامے کے درمیان ایک اہم بات اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے، اور وہ ہے سینیٹائزیشن۔
یہ پلاسٹک کی ٹرے، جس میں ہم اپنا فون، پاسپورٹ یا دیگر قیمتی اشیاء رکھتے ہیں، دراصل ہوائی اڈے کے سب سے زیادہ آلودہ مقامات میں شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ ٹرے دن بھر ہزاروں مسافروں کے زیرِ استعمال رہتی ہیں اور اکثر انہیں بار بار صاف نہیں کیا جاتا۔
تحقیقات سے یہ حیرت انگیز اور تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ ہوائی اڈے پر موجود سیکیورٹی ٹرے جراثیموں کا سب سے بڑا مرکز ہو سکتی ہیں، جو بعض اوقات ٹوائلٹ سے بھی زیادہ آلودہ پائی گئی ہیں۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے کہ یہ ٹرے روزانہ ہزاروں مسافروں کے ہاتھوں سے گزرتی ہیں اور ان میں جوتوں سے لے کر ٹوائلٹ کے فرش کو چھونے والے بیگز تک ہر چیز رکھی جاتی ہے۔
فن لینڈ کے ایک ہوائی اڈے پر کی گئی تحقیق کے مطابق، ان پلاسٹک کی ٹرے پر نزلہ زکام اور انفلوئنزا پھیلانے والے وائرس پائے گئے، جبکہ حیرت انگیز طور پر ٹوائلٹ کی سطحوں پر اس طرح کے وائرس اتنی بڑی مقدار میں موجود نہیں تھے۔
ہوائی اڈوں پر روزانہ ہزاروں افراد کا گزر ہوتا ہے، اور ایسے مقامات پر جراثیم کا پھیلاؤ نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ سیکیورٹی ٹرے کے علاوہ بھی کئی جگہیں ایسی ہیں جہاں جراثیم بڑی مقدار میں موجود ہو سکتے ہیں، جیسے خودکار چیک اِن مشینیں، ادائیگی کے ٹرمینل، سیڑھیوں کی ریلنگ اور پاسپورٹ کنٹرول کاؤنٹرز۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ہوا بھی جراثیم کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی چیک سے پہلے اور بعد میں سینیٹائزر کا استعمال عام کیا جائے تو جراثیم کے پھیلاؤ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ مسافروں کے لیے بھی یہ ایک سادہ مگر مؤثر احتیاط ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہینڈ سینیٹائزر رکھیں، اور سیکیورٹی چیک کے فوراً بعد اپنے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ فون، پاسپورٹ اور دیگر اشیاء کو بھی صاف کریں۔
یہ ایک چھوٹی سی عادت ہے، مگر اس میں بڑی حفاظت چھپی ہو سکتی ہے۔ سفر کی جلدی میں اکثر ہم ان معمولی باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن شاید یہی معمولی احتیاط ہمیں غیر ضروری بیماری سے بچا سکتی ہے۔
.png)
3 hours ago
2







English (US) ·