ARTICLE AD BOX
عملی طور پر الیکٹرانک دستخط اور ہاتھ سے کیے گئے دستخط میں کوئی قانونی فرق نہیں ہے۔ یہ الیکٹرانک دستخط قانون کی نظر میں بالکل پکّے اور سچے مانے جاتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تاریخی امن معاہدے کی مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کردیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے فرانس میں بیٹھ کر اور مسعود پزشکیان نے تہران میں رہ کر اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد سے اس معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے۔ جس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ الیکٹرانک دستخط آخر کیا ہے اور ایسا کیوں کیا گیا؟
آسان الفاظ میں سمجھا جائے تو یہ انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کے ذریعے کسی دستاویز، فارم یا معاہدے کو قبول کرنے یا اس پر اپنی رضامندی دینے کا ایک جدید طریقہ ہے۔
اس طریقے میں دو ملکوں یا پارٹیوں کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے یا ایک ہی کاغذ پر قلم سے دستخط کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور یہ عمل بالکل ویسا ہی قانونی اثر رکھتا ہے جیسے روایتی طور پر قلم اور سیاہی سے کاغذ پر دستخط کیے جاتے ہیں۔
روایتی دستخطوں کے لیے بڑے بڑے ہالوں میں سرکاری تقریبات ہوتی ہیں جن کا ایک خاص مطلب نکالا جاتا ہے، لیکن الیکٹرانک دستخط کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے کام بہت جلدی ہو جاتا ہے اور مخالفین کو آمنے سامنے بیٹھنے کی سیاسی مشکل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔
عملی طور پر الیکٹرانک دستخط اور ہاتھ سے کیے گئے دستخط میں کوئی قانونی فرق نہیں ہے۔ یہ الیکٹرانک دستخط قانون کی نظر میں بالکل پکّے اور سچے مانے جاتے ہیں۔
سن 2000 میں بننے والے امریکی قانون اور یورپی یونین کے ضوابط کے مطابق ان ڈیجیٹل دستخطوں کو صرف اس وجہ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کاغذ پر نہیں کیے گئے۔
اگر ہم اس ٹیکنالوجی کی اقسام پر نظر ڈالیں تو یہ کئی طریقوں سے استعمال کی جاتی ہے۔
اس کی سب سے سادہ شکل یہ ہے کہ کوئی بندہ کمپیوٹر پر کسی فارم کے نیچے اپنا نام ٹائپ کر دے، اپنے ہاتھ کے دستخط کی تصویر اسکین کر کے لگا دے، یا کسی ویب سائٹ پر جا کر صرف اس بٹن پر کلک کر دے جہاں لکھا ہوتا ہے کہ ”میں متفق ہوں“ یا ”میں قبول کرتا ہوں“۔
عام طور پر روزمرہ کے چھوٹے موٹے فارموں اور کاروباری سودوں کے لیے یہی سادہ طریقہ استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جب بات بڑے ممالک کے درمیان معاہدوں کی ہو، تو وہاں سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے ڈیجیٹل دستخط یا بائیو میٹرک دستخط استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں کمپیوٹر کوڈنگ، خفیہ چابیاں اور ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ استعمال ہوتے ہیں جو یہ پکا کرتے ہیں کہ دستخط کرنے والے کی پہچان بالکل سچی ہے اور دستخط ہونے کے بعد اس دستاویز میں ایک نقطے کی تبدیلی بھی نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ بائیو میٹرک طریقے میں انسان کی انگلیوں کے نشانات یعنی فنگر پرنٹ، چہرے کی پہچان یا آنکھوں کے اسکین کے ذریعے منفرد دستخط بنائے جاتے ہیں جن کے لیے خاص قسم کی مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ طریقے اتنے محفوظ ہوتے ہیں کہ کوئی بھی شخص دستخط کرنے کے بعد اپنی بات سے مکر نہیں سکتا۔
ان تمام جدید طریقوں نے دنیا بھر میں کاروباری اور سرکاری کاموں کو بہت آسان اور پیپر لیس یعنی کاغذ کے بغیر ممکن بنا دیا ہے۔
لیکن، جب ہم امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے دستخط کی ویڈیو دیکھتے ہیں تو ان میں دونوں مملاک کے صدور کو ایک کاغذ پر دستخط کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ کس طرح الیکٹرونک دستخط ہوئے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ معاہدے کی مختلف کاپیاں فریقین کو آن لائن فراہم کی جاتی ہیں، جن کا پرنٹ نکال کر ان پر علامتی دستخط کیے جاتے ہیں۔ پہلے ایک فریق دستخط کرتا ہے پھر اس کی ایک اسکین شدہ کاپی دوسرے کو بھیجی جاتی ہے تاکہ وہ اس پر دستخط کرسکے۔
یہ طریقہ کار میڈیا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ فوٹیج کے ذریعے دنیا کو پیغام دیا جاسکے کہ معاہدے کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔
.png)
1 hour ago
2




English (US) ·