ARTICLE AD BOX
جاپان میں چپس کے مشہور برانڈ ’کالبی‘ کے شوقین افراد کے لیے اب اسٹورز کی الماریاں بدلی بدلی نظر آئیں گی۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ چپس کے پیکٹوں کے شوخ رنگوں کو عارضی طور پر ختم کر رہے ہیں۔ اب اسٹورز میں یہ پیکٹ رنگین کے بجائے سیاہ اور سفید رنگوں میں دستیاب ہوں گے۔
سی این این نیوز کے مطابق یہ غیر معمولی قدم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سپلائی چین میں پیدا ہونے والے شدید بحران اور خام مال کی قلت کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، جس نے عالمی تجارتی منڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں جاری کشیدگی کی وجہ سے چھپائی کے عمل میں استعمال ہونے والے بعض اہم خام مال کی فراہمی غیر یقینی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا۔
کالبی کے مطابق، اس عارضی اقدام کا مقصد رنگین سیاہی اور دیگر متعلقہ کیمیکلز کی بچت کرنا ہے تاکہ مارکیٹ میں مصنوعات کی مسلسل فراہمی میں کوئی تعطل نہ آئے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ پیکٹ کا رنگ بدلنے سے چپس کے ذائقے یا معیار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ پیکنگ اب بالکل سادہ اور بے رنگ ہوگی۔
یہ تبدیلی مجموعی طور پر 14 مختلف مصنوعات پر لاگو ہوگی جن کی فروخت کا آغاز 25 مئی سے متوقع ہے۔
عام طور پر جاپانی صارفین پیکٹ کے شوخ رنگوں کو دیکھ کر اپنے پسندیدہ ذائقے کی پہچان کرتے ہیں، جیسے سرخ پیکٹ نمکین چپس کے لیے اور پیلا پیکٹ جس پر سبز لیبل ہوتا ہے، سی ویڈ ذائقے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اب خریداروں کو اپنی مطلوبہ چیز خریدنے کے لیے پیکٹ پر درج تحریر اور لیبلز پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا کیونکہ تمام پیکٹ اب صرف گرے رنگ کے مختلف شیڈز اور تحریر میں دستیاب ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قلت کی ایک بڑی وجہ پیٹرولیم کی ضمنی مصنوعات ’نیفتھا‘ کی عالمی منڈی میں کمی ہو سکتی ہے، جو چھپائی کی سیاہی کی تیاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ان اشیاء کی اتنی شدید قلت نہیں ہے کہ بحران پیدا ہو، لیکن کالبی جیسی بڑی کمپنیوں نے احتیاطی طور پر اپنی پیداواری لاگت اور وسائل کو بچانے کے لیے یہ حکمتِ عملی اپنائی ہے۔
دنیا بھر کی کمپنیاں فروری میں ایران پر ہونے والے حملوں اور اس کے بعد آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ راستہ تیل اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس بحری راستے کی بندش کی وجہ سے نہ صرف جاپان میں چپس کی پیکنگ متاثر ہوئی ہے، بلکہ ایشیا میں فرٹیلائزر کی کمی سے کسان پریشان ہیں اور بھارت جیسے ممالک سے مشرقِ وسطیٰ کو ہونے والی اناج کی برآمدات بھی رک گئی ہیں۔ ’کالبی‘ کے پیکٹوں کا بے رنگ ہونا دراصل اس عالمی معاشی عدم استحکام کی ایک چھوٹی سی مگر واضح علامت ہے۔
.png)
13 hours ago
4






English (US) ·