Times of Pakistan

ایران جنگ کے بعد تعلقات کا نیا امتحان: نیتن یاہو ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا اور ایران نے حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد حملوں میں وقفہ کیا ہے۔

شائع 28 جولائ 2026 08:20pm

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا اور ایران نے حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد حملوں میں وقفہ کیا ہے اور سفارتی رابطے دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کو وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اوول آفس میں بند کمرے کی ملاقات کریں گے۔ یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق نیتن یاہو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران جنگ کے بعد امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی برقرار نہیں رہی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام، جنگ کے بعد کی صورتِ حال، لبنان میں حزب اللہ کے معاملے اور خطے میں سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

’سی این این‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نیتن یاہو ایران کی جوہری اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق نئی معلومات ٹرمپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں اور انہیں سفارتی اقدامات میں نرمی نہ کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات فروری میں ہوئی تھی، جس کے بعد ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی شروع ہوئی۔ تاہم جنگ کے طویل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے مقاصد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، جب کہ ٹرمپ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

لبنان کا معاملہ بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلاف کی ایک وجہ بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیلی افواج کے لبنان سے انخلا پر زور دے رہی ہے، جب کہ نیتن یاہو حزب اللہ کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے واپسی کے مخالف ہیں۔

اس کے علاوہ ترکی کو جدید ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت اور سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون کے معاملات بھی ملاقات میں زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ان اقدامات سے خطے میں اس کی عسکری برتری متاثر ہو سکتی ہے۔

نیتن یاہو ایسے وقت میں واشنگٹن پہنچے ہیں جب اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے باعث ان پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی حمایت نیتن یاہو کے لیے سیاسی طور پر اہم سمجھی جاتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تعلقات گزشتہ برسوں میں مضبوط رہے ہیں، تاہم ایران جنگ، جنگ بندی اور مشرق وسطیٰ کی پالیسی کے بعض معاملات پر دونوں رہنماؤں کے مؤقف میں فرق سامنے آیا ہے۔

Read Entire Article