ARTICLE AD BOX
امریکی فوج کے حصار میں آںے والے 4 کارگو جہازوں میں سے ایک کو تحویل میں لے لیا جبکہ 3 واپس پلٹ گئے، پاسداران انقلاب
پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی کمپنی سے منسلک کارگو جہاز کو تحویل میں لے لیا ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق مذکورہ کارگو جہاز کو سمندری ٹرانزٹ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں روکا گیا۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جہاز کو سمندری ٹرانزٹ قوانین اور ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں روکا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی سرپرستی یا نگرانی میں 4 تجارتی آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان میں سے ایک جہاز کو روک لیا گیا، جبکہ باقی 3 جہاز ایرانی کارروائی کے بعد واپس اپنی سمت تبدیل کرکے لوٹ گئے۔
ایرانی میڈیا نے واقعے کی مبینہ ویڈیو اور تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں تیز رفتار ایرانی گشتی کشتیوں کو ایک بڑے تجارتی جہاز کے گرد نقل و حرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم جہاز کی ملکیت، اس کے پرچم، عملے اور کارگو کی نوعیت سے متعلق تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ آزاد ذرائع سے بھی تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت، امریکی بحریہ یا امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس واقعے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج فارس میں ایران اور امریکی افواج کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور ایران کی اجازت کے بغیر کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ برقرار ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ فریقین کسی حتمی معاہدے تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔
.png)
57 minutes ago
3







English (US) ·