Times of Pakistan

ایران کا جواب سن کر ٹرمپ برہم، تمام تجاویز مسترد کردیں

2 hours ago 5
ARTICLE AD BOX

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ”میں نے ابھی ابھی ایران کے نام نہاد نمائندوں کی طرف سے دیا گیا جواب پڑھا ہے جو مجھے بالکل پسند نہیں آیا، یہ جواب مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے امریکا اور پوری دنیا کے ساتھ صرف تاخیر کا کھیل کھیلتا رہا ہے تاکہ وقت گزارا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو واضح طور پر خبردار کیا کہ وہ اسے کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکا ایران سے اس کی افزودہ یورینیم حاصل کرے گا۔

انہوں نے سابق صدر براک اوباما کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما ایران کے لیے بہت اچھے تھے اور انہوں نے اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کو پیچھے چھوڑ کر تہران کو اربوں ڈالر اور زندگی کی نئی رعایت دی۔

ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکا ایران میں ستر فیصد فوجی اہداف کو پہلے ہی نشانہ بنا چکا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو مزید دو ہفتوں تک دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی امریکی تجاویز کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا کی طرف سے پیش کی گئی شرائط صدر ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے برابر تھیں۔

ایران نے اپنے جواب میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکا جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کا بحری محاصرہ ختم نہیں کیا جاتا اور تیل کی برآمدات سمیت تمام پابندیاں نہیں ہٹائی جاتیں، تب تک کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔

ایران نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ لبنان میں فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔

اسی دوران امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کو عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم امریکا کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے کہ وہ اگلے بیس سال تک یورینیم افزودہ نہیں کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

تاہم ایرانی سرکاری ذرائع نے امریکی اخبار کی اس رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اہم نکات غلط ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق ان کے جواب کا اصل متن یہ تھا کہ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کی جائے، امریکا دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دے اور معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران کے تمام منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔

Read Entire Article