ARTICLE AD BOX
پابندیاں ختم، جوہری پروگرام پر اتفاق اور اربوں ڈالر کے معاشی پیکیج کی تفصیلات سامنے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایران امریکا معاہدے کی دستخط شدہ کاپی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اس کی اہم شقوں کو تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔ معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سمیت متعدد اہم فیصلے شامل ہیں۔ معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدرمسعود پزشکیان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے دستخط موجود ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ پر ایران امریکا معاہدے کی ایک دستخط شدہ کاپی شیئر کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم اور دور رس اثرات رکھنے والے فیصلوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
معاہدے کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مستقل جنگ بندی اور تمام دشمنی کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویز کے مطابق ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جب کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر بحال کیے جائیں گے، جس سے ایران کی مالی مشکلات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت کے تحت ایرانی تیل کی برآمدات کی بحالی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جس سے عالمی منڈی پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دستاویز میں ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے بڑے اقتصادی پیکیج کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے ملک کی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح معاہدے کے تحت امریکا کی جانب سے خطے میں فوجی کشیدگی میں کمی اور عسکری سطح پر تناؤ کم کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جیو پولیٹیکل صورت حال پہلے ہی مختلف چیلنجز سے دوچار ہے اور اس معاہدے کو ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے کی کاپی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ باہمی احترام کے سائے میں ہی پائیدار امن ممکن ہے۔
مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران ہمیشہ سے عالمی امن، ترقی اور علاقائی تعاون کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرتا آیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران خطے میں تعاون اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ متن ایک ایسی قوم کی آواز کی عکاسی کرتا ہے جس نے کسی دباؤ یا دھمکی کے بدلے اپنی عزت اور آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق آج جو پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے وہ قومی مزاحمت، سیاسی بصیرت اور ذمہ دار سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔
.png)
4 hours ago
4





English (US) ·