ARTICLE AD BOX
یمن کا دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن کے بیشتر علاقوں پر حوثیوں کا کنٹرول ہے جب کہ یمنی حکومت جنوبی شہر عدن سے اپنے امور چلاتی ہے۔
شائع 13 جولائ 2026 08:53pm
یمن کا دارالحکومت صنعا ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مطابق یمنی فوج نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو اس وقت نشانہ بنایا جب حوثی باغی ایک ایرانی طیارے کو وہاں لینڈ کروانے کی تیاری کر رہے تھے۔ دوسری جانب حوثی گروپ نے ان حملوں کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
عوب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے پیر کو یمنی فورسز کی جانب سے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایران کے ایک سویلین طیارے (ماہان ایئر) کو صنعا میں لینڈ کرنے سے روکنا تھا، جس میں تہران سے واپس آنے والا حوثی وفد سوار تھا۔
یمنی حکومت کے مطابق حوثی باغیوں نے یمن کی قومی ایئرلائن کے طیاروں کو صنعا میں اترنے سے روکا جب کہ ایرانی طیارے کو لینڈنگ کی اجازت دی، جو یمنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس کارروائی سے قبل یمنی وزارتِ دفاع نے شہریوں، ایئرپورٹ عملے، سفارتی مشنز اور امدادی تنظیموں کو فوری طور پر ایئرپورٹ اور اس کے اطراف کا علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔
واضح رہے کہ یمن اس وقت عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ملک کا دارالحکومت صنعا، شمالی یمن کے بیشتر علاقے اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں جب کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت جنوبی شہر عدن سے اپنے امور چلاتی ہے، جسے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔
دوسری جانب حوثی تحریک نے اس حملے کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صنعا ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد تہران سے حوثی وفد کو لے کر واپس آنے والا ایرانی طیارہ بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ کے ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گیا، جو کہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔
حوثیوں کے نشریاتی ادارے المسیرہ کے مطابق ایرانی طیارہ متعدد مریضوں، بیرون ملک پھنسے شہریوں اور حوثی وفد کو لے کر الحدیدہ پہنچا ہے۔
یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں بھی حوثیوں نے سعودی عرب پر صنعا میں لینڈ کرنے والے ایک ایرانی طیارے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا، جو بعد میں حوثی وفد کو لے کر تہران روانہ ہوا تھا۔
اس واقعے کے بعد حوثیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر سعودی عرب نے دوبارہ یمن پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو جواب میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
یمن کے وزیرِ دفاع محسن الدائری نے پیر کے روز باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی طیاروں کی جانب سے یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو سفارتی اور قانونی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ کوششیں انصار اللہ (حوثی تحریک) کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔
یمنی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ آئندہ یمن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی طیارے کے خلاف تمام دستیاب وسائل کیے جائیں گے اور اس معاملے کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوگی۔
واضح رہے کہ یمن ماضی میں ہونے والی خانہ جنگی اور بین الاقوامی مداخلت کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کو اقوام متحدہ نے اکیسویں صدی کا ہولناک ترین انسانی بحران قرار دیا تھا۔
سال 2015 میں حوثیوں کے صنعا پر قبضے اور حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں مداخلت کی تھی۔ جس کا مقصد حوثی باغیوں کو صنعا سے پیچھے دھکیلنا اور معزول صدر منصور ہادی کی عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
اس جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور قحط جیسے حالات پیدا ہوگئے تھے۔
اقوام متحدہ کی کوششوں سے 2022 میں ایک عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی تھی جب کہ مارچ 2023 میں چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد یمن میں امن کی امید پیدا ہوئی تھی تاہم تازہ پیش رفت نے اس خدشے کو بھی تقویت دی ہے کہ اس قسم کے واقعات سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی پھر متاثر ہوسکتی ہے۔
.png)
4 hours ago
4





English (US) ·