ARTICLE AD BOX
امریکی شہر ہیوسٹن کی تمام رہائشی اور تجارتی جائیدادوں کی مجموعی مالیت بھی ایلون مسک کی متوقع دولت سے کم ہے۔
کبھی دنیا کی سب سے بڑی دولت بادشاہوں اور سلطنتوں کے خزانے سمجھی جاتی تھی، لیکن اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی نے دولت کی نئی تعریف متعارف کرائی ہے۔ دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک جلد ایک ایسا مالی ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں جو انسانی تاریخ میں پہلے کبھی کسی فرد نے حاصل نہیں کیا۔
سی این این کے مطابق مختلف مالیاتی اندازے اور رپورٹس بتاتی ہیں کہ اگر اسپیس ایکس کو متوقع قیمت پر اسٹاک مارکیٹ میں شامل کیا جاتا ہے تو ایلون مسک کی مجموعی دولت تقریباً 1.11 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اس وقت ٹیسلا میں ان کے شیئرز اور آپشنز کی مالیت تقریباً 273 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے، جبکہ اسپیس ایکس کی ممکنہ عوامی فہرست بندی کے بعد ان کے شیئرز کی قیمت میں تقریباً 841 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ ان کی زیادہ تر دولت نقد رقم نہیں بلکہ کمپنیوں کے شیئرز کی صورت میں ہے، اس لیے اس کی مالیت مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایک کھرب ڈالر کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص ہر گھنٹے میں دس لاکھ ڈالر خرچ کرے تو بھی اسے یہ رقم ختم کرنے میں سو سال سے زیادہ وقت لگے گا۔
یہ دولت دنیا کے بیشتر ممالک کی سالانہ معیشت سے بھی زیادہ ہوگی۔ عالمی اندازوں کے مطابق تائیوان، آئرلینڈ، سویڈن، سنگاپور اور جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک کی مجموعی اقتصادی پیداوار ایک کھرب ڈالر سے کم ہے۔
صرف ممالک ہی نہیں بلکہ امریکہ کا مالیاتی مرکز مین ہیٹن، جہاں وال اسٹریٹ اور کئی بڑی عالمی کمپنیاں موجود ہیں، اس کی سالانہ اقتصادی سرگرمی بھی تقریباً ایک کھرب ڈالر کے قریب ہے۔ اسی طرح امریکی شہر ہیوسٹن کی تمام رہائشی اور تجارتی جائیدادوں کی مجموعی مالیت تقریباً 879 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے، جو ایلون مسک کی متوقع دولت سے کم ہے۔
یہ رقم امریکا میں ایک سال کے دوران فروخت ہونے والی تمام نئی گاڑیوں کی مجموعی قیمت سے بھی زیادہ ہے۔ گزشتہ سال تقریباً ایک کروڑ 63 لاکھ نئی گاڑیاں فروخت ہوئیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 789 ارب ڈالر رہی۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ گوگل کے شریک بانی لیری پیج اور سرگئی برن، اوریکل کے بانی لیری ایلیسن اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کی مشترکہ دولت کا تخمینہ تقریباً 1.09 کھرب ڈالر ہے، جو ایلون مسک کی متوقع دولت سے بھی معمولی کم بنتا ہے۔
اسی طرح دنیا کی 50 سب سے قیمتی پیشہ ورانہ اسپورٹس ٹیموں کی مجموعی مالیت تقریباً 353 ارب ڈالر ہے، یعنی ایک کھرب ڈالر کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی کم۔ نظریاتی طور پر اتنی دولت دنیا کی بیشتر بڑی اسپورٹس ٹیموں کی خریداری کے لیے کافی سمجھی جا سکتی ہے۔
اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو ایلون مسک صرف دنیا کے امیر ترین شخص نہیں رہیں گے بلکہ وہ ایسے پہلے فرد بن جائیں گے جن کی دولت کا موازنہ کمپنیوں یا ارب پتی افراد سے نہیں بلکہ پورے ممالک اور بڑی معیشتوں سے کیا جائے گا۔
.png)
2 hours ago
1






English (US) ·