ARTICLE AD BOX
انسانی عمر دراز ہونے کا راز کیا ہے؟ برازیل کی تین بہنیں، جن کی مجموعی عمر 316 برس ہے، اس سوال کا جواب دینے میں سائنس دانوں کی مدد کر سکتی ہیں۔ دنیا کی معمر ترین زندہ بہنوں کی اس جوڑی پر ہونے والی تحقیق سے ماہرین امید کر رہے ہیں کہ طویل اور صحت مند زندگی کے جینیاتی عوامل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے گا۔
برازیل کی تین بہنیں، جنہیں رواں ماہ گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کی معمر ترین زندہ بہنوں کے گروپ کا اعزاز دیا، اب سائنسی تحقیق کا اہم موضوع بن گئی ہیں۔
یونیورسٹی آف ساؤ پالو کے تحت جاری ”ڈی این اے لونگیوو پروجیکٹ“ میں سائنس دان عمر رسیدگی اور طویل زندگی کے حیاتیاتی عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تحقیق کی سربراہ سائنس دان مایانا زاٹس کے مطابق اس مطالعے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ بعض افراد انتہائی زیادہ عمر میں بھی جسمانی اور ذہنی طور پر متحرک اور صحت مند کیوں رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران 90 اور 100 برس سے زائد عمر کے افراد کا موازنہ ایسے لوگوں سے کیا جائے گا جو کمزوری، ذہنی تنزلی یا دائمی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماہرین ان خصوصیات کی تلاش میں ہیں جو طویل عمر اور بہتر صحت سے منسلک ہو سکتی ہیں۔
مایانا زاٹس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے ایسے جینز تلاش کیے جا رہے ہیں جو انسان کو بیماریوں اور عمر کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جتنے زیادہ سو سال سے زائد عمر کے افراد، خصوصاً ایک ہی خاندان کے افراد، تحقیق میں شامل ہوں گے اتنے ہی درست نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔
تحقیق کا مرکز بننے والی تین بہنیں لیویتا ڈی دیوس نونیس 109 سال، زورائیڈ ڈی دیوس موٹا 104 سال اور زولینا ڈی دیوس نونیس 103 سال کی ہیں۔ تینوں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں رہتی ہیں۔ ان کی شناخت عالمی ادارے لونگوی کویسٹ نے کی، جو طویل العمر افراد کے ریکارڈ کی تصدیق کرتا ہے اور گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ساتھ شراکت دار ہے۔
لونگوی کویسٹ کے چیف ایگزیکٹو بین میئرز کے مطابق جب ایک ہی خاندان کی کئی بہنیں اتنی زیادہ عمر تک پہنچ جائیں تو یہ جینیاتی عوامل کے مضبوط کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم ان کے نزدیک خاندانی تعاون اور سماجی روابط بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ بہنیں ایک دوسرے کے قریب رہتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر خاندان کی مدد انہیں حاصل رہتی ہے۔
تینوں بہنیں اپنی طویل عمر کا راز سادہ اور صحت مند طرزِ زندگی کو قرار دیتی ہیں۔ زولینا کے مطابق ان کا بچپن دریا میں تیراکی اور مچھلی پکڑنے میں گزرا، جبکہ اس دور میں تازہ خوراک استعمال ہوتی تھی اور گھروں میں فریج بھی موجود نہیں تھے۔
زورائیڈ کا کہنا ہے کہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانا صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تینوں بہنوں نے عام زندگی گزاری۔ لیویتا نے دستکاری اور بعد ازاں ایک ٹی وی نیٹ ورک میں کام کیا، زورائیڈ نرس رہیں اور پانچ بچوں کی پرورش کی، جبکہ زولینا نے گھریلو خاتون کی حیثیت سے اپنے چھ بچوں کی تربیت کی۔
109 سالہ لیویتا اپنی زندگی کو اطمینان سے یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کا بچپن اور جوانی خوشگوار رہی اور انہیں اپنی زندگی سے کوئی شکایت نہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کون سے جینیاتی عوامل دل، عضلات اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھاپے کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ منصوبے سے وابستہ محقق جواؤ پاؤلو گیلیرم کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ تحقیق میں 500 ایسے افراد کو شامل کیا جائے جن کی عمر 100 برس یا اس سے زیادہ ہو، تاکہ طویل عمر کے بارے میں مزید حتمی نتائج اخذ کیے جا سکیں۔
.png)
1 hour ago
1






English (US) ·