Times of Pakistan

برطانوی وزیراعظم کے خلاف پارٹی میں بغاوت، استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

3 weeks ago 22
ARTICLE AD BOX

لیبر پارٹی کے کم از کم 70 سے 80 اراکین پارلیمنٹ نے کیئر اسٹارمر سے استعفیٰ مانگ لیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو سیاسی زندگی کے مشکل ترین دور کا سامنا ہے، جہاں ان کی اپنی ہی جماعت ’لیبر پارٹی‘ کے اندر سے ان کے خلاف بڑے پیمانے پر بغاوت سر اٹھا چکی ہے۔ کیئر اسٹارمر کو وزیراعظم بنے ابھی دو سال سے بھی مکمل نہیں ہوئے، انہوں نے وزارتِ عظمیٰ پر رہنے یا استعفے سے متعلق قریبی ساتھیوں سے مشاورت شروع کردی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والے مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کی عبرتناک شکست کے بعد وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے خلاف صف بندی مضبوط ہو گئی ہے۔

منگل کو ہونے والے اہم کابینہ اجلاس سے قبل 80 کے قریب ارکانِ پارلیمنٹ اور کابینہ کے اہم ترین وزراء نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑنے کی واضح تاریخ دیں تاکہ پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کا عمل شروع کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ان وزراء میں وزیرِ داخلہ شبانہ محمود (جو پاکستانی نژاد برطانوی سیاست دان ہیں) اور وزیر خارجہ یویٹ کوپر سمیت کئی سینیئر کابینہ ارکان شامل ہیں۔

سینئر وزیر ڈیرن جونز کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹارمر اپنے ساتھیوں سے مشورہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں گے، وہ ان کا اپنا اختیار ہوگا۔

اُدھر کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک تقریر میں وعدہ کیا تھا کہ وہ برطانیہ کو درپیش مسائل کے حل کیلئے زیادہ جرات اور تیزی سے اقدامات کریں گے، تاہم ان کی تقریر کے فوراً بعد مزید ارکان نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر محض دو سال بعد دوبارہ قیادت کی تبدیلی کی کوشش کی گئی تو عوام لیبر پارٹی کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر برطانیہ میں گزشتہ 5 برسوں میں چوتھے وزیراعظم ہیں، اور یہ بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بدھ کے روز شاہ چارلس نے پارلیمنٹ میں حکومت کا قانون سازی کا ایجنڈا پیش کرنا ہے۔

لیبر پارٹی کے قواعد کے مطابق، کسی بھی نئے امیدوار کو چیلنج کرنے کے لیے 20 فیصد ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت کے علاوہ نچلی سطح کی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز کی تائید بھی لازمی ہے۔ لیبر پارٹی کی 125 سالہ تاریخ میں ارکانِ پارلیمنٹ نے کبھی کسی برسرِ اقتدار وزیراعظم کو اس طرح عہدے سے نہیں ہٹایا، جس کی وجہ سے یہ عمل کافی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔

Read Entire Article