Times of Pakistan

بلوچستان میں 'آپریشن شعبان' جاری، فتنہ الہندوستان کے مزید 8 دہشت گرد ہلاک

11 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

آپریشن کے دوران ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 76 ہوگئی جب کہ 5 جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 114 خارجی مارے جا چکے ہیں۔

شائع 13 جولائ 2026 04:55pm

بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس کا مشترکہ آپریشن ”شعبان“ بھرپور انداز میں جاری ہے۔ آج 2 کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے مزید 8 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے، جس کے بعد ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 79 ہوگئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جاری مشترکہ آپریشن شعبان کے دوران پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو ہوائی اور زمینی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف آج مختلف علاقوں میں کی جانے والی 2 کارروائیوں کے دوران مزید 8 دہشت گر مارے گئے۔ پہلی کارروائی کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جو مختلف دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے جب کہ دوسری تازہ کارروائی کے دوران مزید 3 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن شعبان کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 79 ہوچکی ہے جب کہ 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 117 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کی کمین گاہوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور دیگر ساز و سامان برآمد کرلیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رہے گا۔ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے زمینی اور فضائی دونوں محاذوں پر مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں۔

اگر اس پورے آپریشن کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کارروائی جولائی 2026 کے بالکل آغاز میں بلوچستان کے ضلع زیارت میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد شروع کی گئی تھی۔

وہاں واقع مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں نے ایک بڑا حملہ کیا تھا، جس میں نو بہادر پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے، اس حملے کے فوراً بعد حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے امن دشمنوں کے پورے نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔


اسی فیصلے کے تحت پاک فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس نے مل کر یہ مشترکہ محاذ سنبھالا ہے، جس کا بنیادی مقصد علاقے میں کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسندوں کا مکمل صفایا کر کے عوام کی جان و مال کو محفوظ بنانا اور امن قائم کرنا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن شعبان پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ​پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں 5 مزید خوارجیوں کی ہلاکت پر فورسز کو سلام پیش کرتے ہیں۔

وزیرداخلہ نے ​دہشت گردوں کے خلاف مؤثر زمینی اور فضائی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ​وطنِ عزیز سے فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ ​بلوچستان کا امن تباہ کرنے والے عبرت کا نشان بن رہے ہیں۔ پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اب تک 114 خوارجی دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری فورسز انتہائی متحرک، پروفیشنل اور الرٹ ہیں۔ بلوچستان کی دھرتی پر خون بہانے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

Read Entire Article