Times of Pakistan

بھوک نہ ہونے کے باوجود بار بار فریج کھولنا؛ دماغ کیا ڈھونڈتا ہے؟

5 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

شائع 23 جولائ 2026 01:13pm

کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ فریج کا دروازہ کھولیں، چند سیکنڈ اندر جھانکیں اور پھر بغیر کچھ لیے واپس آ جائیں اور پھر دس منٹ بعد دوبارہ وہی کام کریں؟ اگر ایسا ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار فریج کھولنا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ انسان کو بھوک لگی ہے، بلکہ اس کے پیچھے انسان کے دماغ کی کچھ الگ عادتیں اور نفسیاتی وجوہات چھپی ہوتی ہیں۔

ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ جب لوگ اکتاہٹ یا بوریت کا شکار ہوتے ہیں، تو ان کا دماغ کسی خوشگوار اور دلچسپ چیز کی تلاش میں ہوتا ہے۔

کھانے کی چیزیں، خاص طور پر جن میں چینی، چکنائی یا نمک زیادہ ہو، دماغ کو ایک سکون اور خوشی کا احساس دیتی ہیں۔ اسی لیے جب انسان کام سے وقفہ لیتا ہے یا بیزار ہوتا ہے تو وہ بے دھیانی میں فریج کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہ عمل جسمانی بھوک کی وجہ سے نہیں بلکہ دماغ کے سکون اور تفریح حاصل کرنے کی خواہش کی وجہ سے ہوتا ہے۔

نفسیات کی دنیا میں دو طرح کی بھوک بتائی جاتی ہے۔ ایک وہ جو جسم کو واقعی طاقت اور توانائی کی ضرورت ہو اور دوسری وہ بھوک جو صرف دل کی خوشی، چٹخارے یا وقت گزارنے کے لیے ہوتی ہے۔ جسے ”ہیڈونک ہنگر“ کہا جاتا ہے۔

جب کوئی شخص کمپیوٹر پر کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے یا فارغ بیٹھا ہوتا ہے، تو فریج کھولنا اس کے لیے ایک قسم کا وقفہ اور معمول بن جاتا ہے۔

ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ فریج انسان کو ایک امید اور امکان دیتا ہے۔ انسان کا دماغ سوچتا ہے کہ شاید اندر کوئی بچی ہوئی مٹھائی مل جائے، شاید کوئی آئس کریم رکھی ہو یا کوئی ایسی چیز مل جائے جو پہلے نظر نہ آئی ہو۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے لوگ بار بار اپنا موبائل فون کھول کر نوٹیفکیشن یا میسج چیک کرتے ہیں، حالانکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ شاید کچھ نیا نہ آیا ہو۔

عادتیں عموماً ایک خاص انداز میں بنتی ہیں، جسے ”کیو، روٹین اور ریوارڈ“ کا نام دیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے کوئی اشارہ یا صورتحال سامنے آتی ہے، پھر انسان ایک مخصوص عمل دہراتا ہے اور آخر میں اسے کسی نہ کسی صورت میں اطمینان یا خوشی محسوس ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کام کے دوران چند منٹ کا وقفہ لے تو وہ غیر ارادی طور پر فریج کھول سکتا ہے۔ چاہے وہ کچھ کھائے نہ بھی، لیکن فریج دیکھنے کا عمل ہی اس کے دماغ کو وقتی سکون یا دلچسپی فراہم کر دیتا ہے۔

بوریت بھی اکثر بھوک جیسی محسوس ہو سکتی ہے۔ گھر سے کام کرنے والے افراد یا وہ لوگ جو زیادہ وقت اکیلے گزارتے ہیں، عموماً اس عادت کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایک کام ختم ہونے اور دوسرے کے شروع ہونے کے درمیان اگر چند منٹ مل جائیں تو بہت سے لوگ خود بخود کچن کی طرف چل پڑتے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسان کے اردگرد کا ماحول اس کے رویے پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر کچن روشن ہو، فریج راستے میں ہو یا کھانے پینے کی چیزیں آسانی سے نظر آ رہی ہوں، تو فریج کھولنے کی خواہش مزید بڑھ سکتی ہے۔

اس لیے اگلی بار جب آپ ایک ہی گھنٹے میں تیسری بار فریج کا دروازہ کھولیں تو خود سے ایک آسان سا سوال پوچھیں کہ کیا واقعی آپ کو بھوک لگی ہے یا پھر آپ کا دماغ صرف کسی دلچسپ بات یا تبدیلی کی تلاش میں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب اکثر لوگوں کے لیے حیران کن ثابت ہو سکتا ہے۔

Read Entire Article