Times of Pakistan

تہران سے واشنگٹن تک پاکستان کا کردار

6 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

آبنائے ہرمز سے ایرانی تیل بردار جہازوں کا گزر جانا اس کشمکش کا ایک اور اہم پہلو ہے۔

عالمی سیاست کے افق پر اس وقت جو منظرنامہ ابھر رہا ہے، وہ محض ریاستوں کے درمیان طاقت کے توازن کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی نظام کی داخلی کمزوریوں، سفارتی نزاکتوں اور عسکری حکمت عملیوں کے باہمی تصادم کی ایک پیچیدہ تصویر ہے۔

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں توپ و تفنگ کی گھن گرج کے پیچھے طاقت، وقار، مفادات اور بیانیے کی ایسی جنگ جاری ہے جس کے اثرات خطے کی جغرافیائی حدود سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران، امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے گرد گھومتی یہ کشمکش اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ بندی بھی غیر یقینی ہے اور امن کی خواہش بھی متضاد شرائط کے بوجھ تلے دبی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

 امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے قرارداد کی منظوری امریکی جمہوری نظام کے اندر موجود اختلافِ رائے کا واضح اظہار ہے۔ یہ محض ایک پارلیمانی کارروائی نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ مسلسل عسکری مہم جوئی نے امریکی معاشرے اور سیاسی طبقے میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔

جب حکمران جماعت کے چند ارکان بھی اپنی قیادت کے جنگی بیانیے سے فاصلہ اختیار کرنے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کی جانب سے اس قرارداد کو بے معنی قرار دینا اس سیاسی مزاج کی عکاسی کرتا ہے جس میں قومی سلامتی کے معاملات کو اکثر داخلی سیاسی کامیابیوں اور ناکامیوں کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔

 امریکی سیاسی تاریخ میں یہ بحث نئی نہیں کہ جنگ کا اختیار منتخب ایوانوں کے پاس ہونا چاہیے یا وائٹ ہاؤس کے پاس۔ ویت نام سے عراق اور افغانستان تک کے تجربات نے بارہا یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایک فرد یا محدود انتظامی حلقہ پوری قوم کو طویل تنازع میں جھونکنے کا فیصلہ کر سکتا ہے؟ موجودہ صورتحال نے اس بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ کانگریس کی قرارداد دراصل اس خدشے کا اظہار ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور وسیع جنگ نہ صرف امریکی معیشت اور سلامتی پر بوجھ بن سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی نئے بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔

امریکا کی سیاسی قیادت ایک ایسے مخمصے سے دوچار ہے جس میں عسکری قوت کا اظہار بھی ضروری سمجھا جاتا ہے اور طویل جنگ کے نتائج سے گریز بھی مقصود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب جنگ بندی کی باتیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف یہ انتباہ بھی دیا جا رہا ہے کہ اگر امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچا تو عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔ گویا تلوار نیام میں ضرور ہے مگر دست شمشیر زن اب بھی اس کی گرفت ڈھیلی کرنے پر آمادہ نہیں۔

 ایران کی جانب سے آنے والے بیانات ایک مختلف داستان سناتے ہیں۔ تہران کے اقتدار کے مراکز اس جنگی مرحلے کو اپنی کامیابی اور مخالفین کی ناکامی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ایرانی قیادت کے نزدیک اصل کامیابی میدانِ جنگ میں محض فوجی برتری نہیں بلکہ بقا، مزاحمت اور قومی عزم کا مظاہرہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایرانی حکام مسلسل یہ تاثر دے رہے ہیں کہ بیرونی دباؤ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ اس نے ایرانی ریاست کو مزید مضبوط اور منظم کر دیا ہے۔ ایسے بیانات کا مقصد صرف داخلی حمایت کو مستحکم کرنا نہیں بلکہ مخالفین کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ دباؤ کی حکمت عملی مطلوبہ نتائج پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جدید جنگوں میں حقیقت اور تاثر کے درمیان فاصلہ بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی میدانِ جنگ فیصلہ کن ہوتا تھا، آج اطلاعات، بیانیے اور میڈیا کی جنگ بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ہر فریق اپنی کامیابی اور مخالف کی ناکامی کا نقشہ دنیا کے ذہن پر ثبت کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے عسکری نتائج سے زیادہ سیاسی تعبیرات اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں اپنے اپنے عوام اور عالمی رائے عامہ کو یہ باور کرانے میں مصروف ہیں کہ بالآخر کامیابی ان ہی کے حصے میں آئی ہے۔

آبنائے ہرمز سے ایرانی تیل بردار جہازوں کا گزر جانا اس کشمکش کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ جدید دنیا میں جنگ صرف بارود اور میزائلوں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ معیشت، توانائی اور تجارتی راستے بھی اس کے بنیادی محاذ بن چکے ہیں۔ خلیج کے سمندری راستے عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر ایران شدید دباؤ کے باوجود اپنے تیل کی ترسیل برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ اس کے لیے معاشی اور سیاسی دونوں حوالوں سے ایک اہم کامیابی تصور کی جائے گی۔ اس واقعے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عالمی منڈیوں کی حرکیات کو محض فوجی طاقت کے ذریعے مکمل طور پر قابو میں رکھنا آسان نہیں رہا۔

 عالمی توانائی کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ تیل اب صرف ایک تجارتی جنس نہیں بلکہ بین الاقوامی اثرورسوخ کا ذریعہ بھی ہے۔ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی معمولی بے یقینی بھی ایشیا، یورپ اور امریکا کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر سکتی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ افراطِ زر کو ہوا دیتا ہے، صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے اور عالمی اقتصادی بحالی کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا ہر بحران صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ عالمی معیشت کا دردِ سر بن جاتا ہے۔اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹ خصوصی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ عالمی برادری کے لیے اصل تشویش صرف موجودہ جنگ نہیں بلکہ اس کے ممکنہ نتائج بھی ہیں، اگر جوہری پروگراموں کے بارے میں شفافیت کم ہوتی ہے اور نگرانی کے نظام کمزور پڑتے ہیں تو عدم اعتماد کی فضا مزید گہری ہو جاتی ہے۔

بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد کسی عمارت کی بنیاد کی مانند ہوتا ہے؛ جب بنیاد میں دراڑ پڑ جائے تو بظاہر مضبوط دیواریں بھی لرزنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ معائنہ کاروں کو رسائی فراہم کرے اور جوہری سرگرمیوں کے بارے میں واضح معلومات دے۔جوہری سفارت کاری کا مستقبل بھی اسی سوال سے جڑا ہوا ہے، اگر مذاکرات کا عمل کمزور پڑتا ہے تو دنیا ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کی افادیت پر سوالات اٹھنے لگیں۔ عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جوہری مسئلے کا حل محض پابندیوں یا دھمکیوں سے ممکن نہیں۔ اعتماد سازی، مرحلہ وار پیش رفت اور متوازن ضمانتیں ہی وہ راستہ ہیں جن پر چل کر پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ بیان کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، دراصل اسلام آباد کی اس سفارتی حکمت عملی کا اظہار ہے جو تصادم کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دیتی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، مسلم دنیا میں اس کا مقام اور مختلف عالمی قوتوں کے ساتھ اس کے متوازن تعلقات اسے ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جہاں وہ پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ کردار آسان نہیں کیونکہ اس میں توازن، تدبر اور غیر معمولی سفارتی مہارت درکار ہوتی ہے۔

امریکا کی ڈھائی سو سالہ قومی سالگرہ کی تقریب میں پاکستانی قیادت کی جانب سے دیے گئے بیانات کو محض سفارتی آداب کے دائرے میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ اس وسیع تر سوچ کا حصہ ہیں جس کے تحت پاکستان بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں میں خود کو کسی ایک بلاک تک محدود کرنے کے بجائے متوازن تعلقات کی پالیسی پر گامزن رکھنا چاہتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں جذبات کے بجائے مفادات کارفرما ہوتے ہیں اور کامیاب ریاستیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ دوسروں کے ساتھ قابلِ عمل روابط بھی قائم رکھتی ہیں۔

علاقائی سیاست کے ایک اور اہم ستون یعنی چین کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بیجنگ خطے میں استحکام کو اپنی اقتصادی حکمتِ عملی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ سی پیک سے لے کر وسطی ایشیا اور خلیجی ریاستوں تک پھیلے منصوبوں کی کامیابی امن و استحکام سے مشروط ہے۔ اسی لیے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور میں چین کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے تعاون کا فروغ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔

دنیا کو اس وقت نئے محاذ نہیں، نئے مکالمے درکار ہیں، نئے ہتھیار نہیں، نئی حکمتیں مطلوب ہیں؛ اور طاقت کے مظاہروں سے بڑھ کر ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو آنے والی نسلوں کو خوف نہیں بلکہ امن کی میراث دے سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو جنگ کی راکھ سے امن کے پھول اگا سکتا ہے اور یہی وہ پیغام ہے جسے آج کے ہنگامہ خیز عالمی منظرنامے میں سب سے زیادہ سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Read Entire Article