ARTICLE AD BOX
وزیراعظم نے عوام سے تیل کی بچت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تیل کی کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے جو ایک مثبت علامت ہے۔
شائع 29 اپريل 2026 03:33pm
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے پاکستانی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کے باعث ملک کا تیل کا درآمدی بل ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ اس علاقائی تنازع کی وجہ سے پاکستان کا تیل کا ہفتہ وار بل تقریباً 167 فیصد اضافے کے ساتھ 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر اب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور یہ ایک انتہائی مشکل صورتحال ہے جس کا ہمیں ہمت اور یکسوئی سے سامنا کرنا ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اس جنگ کے مکمل خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے بے پناہ کاوشیں کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوششوں کے نتیجے میں ہی جنگ بندی میں توسیع ممکن ہوئی جو اب بھی برقرار ہے۔
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے امن کے لیے ایران کو نئی تجاویز ارسال کی ہیں جس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ مشاورت کے بعد ان تجاویز کا جواب دیں گے۔
وزیراعظم نے دعا کی کہ یہ جنگ جلد ختم ہو کیونکہ اس اچانک چھڑنے والی جنگ نے گزشتہ دو سالوں کی ان معاشی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے جو معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کی گئی تھیں۔
تیل کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس جمعہ کو عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق نئی مقامی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت کی وجہ سے دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں تیل کے حصول کے لیے لمبی قطاریں یا افراتفری پیدا نہیں ہوئی اور حالات قابو میں رہے۔
وزیراعظم نے عوام سے تیل کی بچت کی اپیل بھی کی اور بتایا کہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں ملک میں تیل کی کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے جو ایک مثبت علامت ہے۔
عالمی منڈی کی صورتحال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برینٹ کروڈ کی قیمت 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے جس کی بڑی وجہ امریکی ناکہ بندی میں توسیع کی خبریں ہیں۔
نجکاری کے حوالے سے وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل سے قومی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔
اس کے علاوہ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زراعت کے ساتھ ساتھ عوامی ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم شعبوں میں بھی عوام کو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے مشاورت شروع کریں تاکہ عام آدمی کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچایا جا سکے۔
.png)
1 hour ago
2






English (US) ·