Times of Pakistan

جوہری تنصیبات کا معائنہ نہ کرایا تو ڈیل ابھی منسوخ کرتا ہوں: صدر ٹرمپ کی دھمکی

2 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

تہران بات چیت کی اچھی پوزیشن میں نہیں ہے، اس کی فوج اور قیادت ختم ہوچکی ہے: امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کا معائنہ نہ کرایا تو ڈیل ابھی منسوخ کرتا ہوں، تہران بات چیت کی اچھی پوزیشن میں نہیں ہے، اس کی فوج اور قیادت ختم ہوچکی ہے، ایران کو دی جانے والی رقم امریکا میں موجود اکاؤنٹس میں رہے گی، جو خوراک و طبی سامان کی خریداری میں استعمال ہوگی۔

منگل کو امریکی ریاست پنسلوانیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دیکھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ڈیل کس طرف جاتی ہے، تیل کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، سب سے بڑی چیز یہ کہ ایران کے پاس نیوکلیر ہتھیار نہیں ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران انسپیکشن نہیں کراتا تو میں ابھی ڈیل منسوخ کرتا ہوں، ایران کی ملٹری، قیادت، ریڈار ہر چیز ختم ہوچکی ہے، ایران بات چیت کی اچھی پوزیشن میں نہیں ہے، اس کے باوجود ہم بات کررہے ہیں، ایران میں مہنگائی کی شرح 300 فیصد ہوگئی۔

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی آئی (آئی اے ای اے) کے جوہری معائنے کا کوئی واضح شیڈول نہیں، معائنہ کاروں کو جوہری مقامات کا دورہ کروانے کا ارادہ نہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضا مند ہے، ایسا نہیں لگتا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑے گی۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے مستقبل میں اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنوں پر مکمل طور پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے ”جوہری شفافیت“ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اس شرط پر رضامند نہ ہوتا تو دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات جاری نہ رہتے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے دیگر اہم رعایتوں کے بعد انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور بحری ناکہ بندی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ تمام بحری جہاز اپنی پوزیشن پر موجود رہیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کی جا سکے تاہم موجودہ صورت حال میں ایسا ہونے کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ایران کو جاری کیے جانے والے فنڈز یا پابندیوں میں نرمی کے تحت دستیاب رقم امریکی کنٹرول میں موجود ایسکرو اکاؤنٹس میں رکھی جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فنڈز صرف امریکا سے خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیے جائیں گے، ان اشیاء میں ہمارے عظیم امریکی کسانوں کی پیدا کردہ مکئی، گندم اور سویابین بھی شامل ہوں گی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کو ان اشیا کی فوری ضرورت ہے اور وہاں انسانی بحران کے پیش نظر امداد فراہم کرنا ضروری ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

اپنے ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزشتہ روز ایک کروڑ 9 لاکھ بیرل تیل نکلا جو ایک نیا ریکارڈ ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں اور دنیا اب پہلے سے زیادہ محفوظ ہوگئی ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے دونوں جانب سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوئے تھے۔

منگل کو ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صدر ٹرمپ کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جوہری توانائی ایجنسی کے ایٹمی تنصیبات کے دوروں کا کوئی منصوبہ نہیں، ایم او یو کے تحت ایران پر عائد اقتصادی پاپندیوں کا خاتمہ امریکا کی ذمہ داری ہے۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر جارحیت کے خاتمے پر زور دیا ہے، طے شدہ طریقۂ کار میں امریکا ، ایران اور ثالث شامل ہوں گے، لبنانی حکومت مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں میزائل دفاعی پروگرام پرکوئی بات نہیں ہوئی، دیکھنا ہوگا کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کس طرح آگے بڑھتا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر آمادگی ایک ”اہم سنگ میل“ ہے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ معائنہ کاروں کو کس نوعیت کی رسائی حاصل ہوگی۔

بعد ازاں تہران نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے ساتھ ایران کا تعاون موجودہ طریقہ کار کے تحت جاری رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

Read Entire Article