Times of Pakistan

حزب اللہ سے بھی براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں: صدر ٹرمپ

3 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

امریکی صدر نے کہا، ایران نے کچھ نہ کچھ کر ہی لیا، امریکی فوج ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کر رہی ہے۔

شائع 21 جولائ 2026 09:19pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ حزب اللہ سے بھی براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے ایران کے اردن میں حملے کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے بے چین ہے اور مذاکرات کا خواہاں ہے۔

وائٹ ہاؤس میں لبنان کے صدر جوزف عون کے ہمراہ مشترکہ گفتگو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج ایران کی عسکری صلاحیتوں کو اس سطح پر کمزور کر رہی ہے جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران اردن میں حملہ کرنے میں کامیاب رہا۔ ٹرمپ کے مطابق اگر وہاں دوسرے آپریٹرز موجود ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا، تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ ان کی مراد کن آپریٹرز سے تھی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران پس پردہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے، لیکن امریکا اس وقت تک کسی ملاقات میں دل چسپی نہیں رکھتا جب تک تہران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسی وجہ سے مذاکرات کے لیے بے تاب ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر لبنان کے صدر درخواست کریں تو وہ حزب اللہ سے بھی براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے لوگوں سے بھی گفتگو کرتے ہیں جن سے اکثر لوگ بات کرنے کے حق میں نہیں ہوتے، کیونکہ بعض اوقات اسی سے مسائل کا حل نکلتا ہے۔

لبنان سے متعلق گفتگو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں سے اپنی افواج کی دوبارہ تعیناتی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے مکمل انخلا کے لیے کسی حتمی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنانی فوج پر فائرنگ کے ایک واقعے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔

بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے ممکنہ ناکا بندی کے خدشات پر امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکا اس صورتِ حال سے نمٹنا جانتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی امریکا حوثیوں کے خلاف کارروائی کر چکا ہے اور اس کے بعد وہ خاموش رہے۔

صدرٹرمپ نے امریکا میں منعقدہ فیفا ورلڈ کپ کو تاریخ کا کامیاب ترین ٹورنامنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا اور پورا ملک کئی ہفتوں تک غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کرتا رہا۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے ملاقات کے دوران ٹرمپ کو عظیم صدر قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی، جس پر امریکی صدر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اب یہ جو بھی مانگیں گے، انہیں سب کچھ مل سکتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ اردن میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملے کے نتیجے میں دو امریکی اہلکار ہلاک جب کہ چار دیگر اہلکار زخمی ہونے کے بعد طبی بنیادوں پر منتقل کیے گئے تھے۔

Read Entire Article