ARTICLE AD BOX
شائع 26 اپريل 2026 02:31pm
غزہ میں جاری شدید بمباری اور جنگی حالات کے نتیجے میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے، جہاں متعدد بچے اپنی بولنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ نہ صرف جسمانی چوٹوں بلکہ شدید ذہنی صدمے کا نتیجہ بھی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سالہ جد زہود نامی فلسطینی بچہ اپنے گھر کے قریب ہونے والی شدید بمباری کے بعد اچانک بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو گیا۔
اس سے قبل اسے کسی قسم کی تقریری دشواری کا سامنا نہیں تھا، تاہم دھماکے کے بعد وہ الفاظ ادا کرنے سے قاصر ہو گیا۔ ایسے واقعات غزہ بھر میں بڑھتے جا رہے ہیں، جہاں ماہرین کے مطابق متعدد بچے جنگی صدمات کے باعث خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق بعض بچوں میں یہ مسئلہ دماغی چوٹ، اعصابی نقصان یا دھماکوں کے اثرات کے باعث پیدا ہوتا ہے، جبکہ کئی بچوں میں کوئی واضح جسمانی زخم موجود نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود وہ مسلسل تشدد، خوف اور عدم تحفظ کے ماحول کے باعث بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔
غزہ سٹی کے حماد اسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں میں تقریری صلاحیت کے خاتمے کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتال کے شعبہ تقریر کے سربراہ ڈاکٹر موسیٰ الخرطی کے مطابق بعض بچوں میں مکمل طور پر بولنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں سلیکٹو میوٹزم یا ہسٹیریکل افونیا کہا جاتا ہے، جو شدید ذہنی دباؤ سے جڑی حالتیں ہیں۔
اسی طرح چار سالہ لوسین تمبورا ایک اسرائیلی فضائی حملے سے متاثرہ عمارت کی سیڑھیاں گرنے کے باعث تیسرے فلور سے گر گئی تھیں، جس کے بعد وہ اپنی آواز کھو بیٹھی۔ ان کی والدہ کے مطابق حادثے کے نتیجے میں بازو اور ٹانگ کو جزوی فالج بھی ہوا، تاہم جسمانی صحت بہتر ہونے کے باوجود بولنے میں مشکلات برقرار ہیں۔
بچوں کے ماہرِ نفسیات کترین گلاٹز بروباک، جو ڈاکٹرز کے بغیر بارڈرز کے ساتھ غزہ میں خدمات انجام دے چکی ہیں، اس کیفیت کو خاموش اذیت قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق شدید ذہنی صدمہ بچوں کو اس حد تک متاثر کرتا ہے کہ وہ بغیر کسی جسمانی وجہ کے بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ ایسے بچے اکثر اپنے پیاروں کی موت دیکھ چکے ہوتے ہیں، زخمی ہو چکے ہوتے ہیں یا مسلسل تشدد کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، جہاں خاموشی ان کے لیے ایک دفاعی ردعمل بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کیفیت جسم کے فریز رسپانس کا نتیجہ ہوتی ہے، جہاں دماغ خطرے کے باعث خود کو بند کر لیتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بروقت اور مستقل علاج نہ کیا جائے تو یہ مسئلہ بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر طویل المدتی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
نفسیات کترین گلاٹز بروباک کے مطابق جب بچے کھیلنا، سیکھنا اور دوسروں سے رابطہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو ان کی نشوونما رک جاتی ہے، جسے وہ علمی جنگی چوٹیں قرار دیتی ہیں۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ غزہ میں صورتحال دیگر تنازعات سے مختلف اور زیادہ سنگین ہے، کیونکہ یہاں مکمل طور پر عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں اس وقت کوئی بھی ایسا نہیں جو متاثر نہ ہو، ہر شخص خطرے میں ہے اور کہیں بھی محفوظ جگہ موجود نہیں۔
صحت کے نظام اور بنیادی سہولیات کی تباہی نے اس بحران کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں نہ تو مناسب طبی مدد دستیاب ہے اور نہ ہی لوگ اس صورتحال سے نکل سکتے ہیں۔
.png)
3 hours ago
1






English (US) ·