ARTICLE AD BOX
این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا۔
شائع 21 جولائ 2026 09:06am
ملک کے بالائی حصوں بالخصوص خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور ہزاره ڈویژن میں موسلا دھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھتیں گرنے، دیواریں منہدم ہونے اور پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ جانے جیسے حادثات میں تین بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ دو خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اس تباہی کے بعد بھی محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی ہیش گوئی کی گئی ہے۔
گزشتہ روز مردان میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچے زندگی کی بازی ہار گئے اور ان کی ماں اور بہن شدید زخمی ہوئیں، جبکہ لنڈی کوتل میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی گاڑی سے تین افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ دوسری طرف وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث آنے والی طغیانی نے 25 دکانیں، ایک اسکول اور چھ مکانات تباہ کر دیے جس سے تقریباً 25 ہزار کی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔
شدید بارشوں کے باعث نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک اور صاحبزادہ ٹاؤن میں فلیش فلڈ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں ریسکیو 1122 کی واٹر ریسکیو ٹیموں نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے سیلابی ریلے میں محصور 12 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس کے علاوہ آدم زئی شیٹ گلاس فیکٹری کے قریب پھنسے مزید چھ افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔
اس ریسکیو آپریشن کے حوالے سے ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملک اشفاق حسین نے تمام کارروائی کی خود نگرانی کی، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اعجاز اختر بھی موقع پر موجود رہے۔
ہزارہ ڈویژن اور کاغان ویلی میں بھی طوفانی بارشوں سے تین رابطہ پل بہہ گئے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم راستے بند ہو چکے ہیں جنہیں کھولنے کے لیے بھاری مشینری کام کر رہی ہے۔
ایبٹ آباد میں شاہراہِ ریشم پانی جمع ہونے سے جھیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ضلع ہری پور میں دوڑ ندی میں 13 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہری پور انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ”برساتی نالوں کے اطراف موجود تمام افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے“۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارتی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 25 جولائی تک گرمی اور بارشوں کے باعث گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے، جس سے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گر سکتے ہیں، جبکہ اپر اور لوئر چترال کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج کے بعد دریائے سندھ میں اٹک کے مقام پر سطح بلند ہو گئی ہے جہاں دریا کی طرف جانے والے راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک دریائے چناب، جہلم اور کابل میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔
موسم کی عمومی صورتحال کے مطابق خیبرپختونخوا کے اکثر اضلاع میں مطلع ابر آلود ہے، جہاں پشاور میں درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ اور ہوا میں نمی 82 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ڈیرہ غازی خان میں آندھی اور بارش سے جہاں موسم خوشگوار ہوا وہیں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور مرطوب رہا، جہاں نوکنڈی میں درجہ حرارت 47، سبی میں 45 اور کوئٹہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، تاہم قلات، خضدار، ژوب، لورالائی اور بارکھان سمیت چند علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
.png)
10 hours ago
3







English (US) ·