Times of Pakistan

درختوں پر جامنوں کی بھر مار آنے والے قحط کی نشانی ہے؟

6 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

گرمیوں کے موسم میں جب درخت گہرے جامنی رنگ کے رسیلے جامنوں سے لَد جاتے ہیں اور مارکیٹس میں ان کی بھرمار ہو جاتی ہے، تو جہاں ایک طرف یہ پھل مٹھاس اور فرحت کا احساس لاتا ہے، وہاں دوسری طرف یہ اپنے ساتھ ایک قدیم بحث بھی چھیڑ دیتا ہے کہ کیا درختوں پر جامنوں کی بہتات مستقبل میں قحط کا اعلان ہے؟

قدیم زمانے سے بزرگوں کی روایات اور لوک داستانوں میں جامن کی غیر معمولی پیداوار کو ایک گہرا اور تشویشناک اشارہ مانا جاتا رہا ہے۔ اجداد کی حکمت، جدید نباتیات اور موسمیاتی حقائق کے درمیان یہ تعلق جتنا دلچسپ ہے، اتنا ہی فکر انگیز بھی ہے۔

قدیم عقیدہ اور عوامی متھ

دنیا کے کئی حصوں میں، خاص طور پر برصغیر کے دیہی علاقوں میں، یہ روایتی عقیدہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے کہ اگر کسی سال جامن کے درختوں پر معمول سے زیادہ پھل آئے اور وہ کثرت سے زمین پر گرنے لگیں، تو یہ آنے والے شدید قحط یا خشک سالی کی قبل از وقت تنبیہ ہوتی ہے۔

ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ قدرت انسانوں اور جانوروں کو آنے والے کٹھن وقت سے پہلے ہی ایک ایسی خوراک وافر مقدار میں فراہم کر دیتی ہے جو سخت جان ہوتی ہے اور جسے مشکل حالات میں بقا کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس دانش کے پیچھے یہ نظریہ کارفرما رہا ہے کہ درخت زمین کے اندرونی حالات کو بھانپ کر مستقبل کا احوال بتا دیتے ہیں۔

سائنسی حقیقت کیا ہے؟

جب جدید سائنس کی نظر سے اس رجحان کا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ روایتی مشاہدہ تو درست تھا، لیکن اس کی وجہ وہ نہیں جو عام طور پر سمجھی جاتی ہے۔ سائنسی حقیقت مستقبل کی پیشگوئی کے بجائے ماضی اور حال کے موسم پر منحصر ہے۔

جامن کے درخت پر بہار کے آخر میں پھول آتے ہیں۔ اگر اس دوران ہلکی سی بھی بے وقت بارش ہو جائے، تو پھول جھڑ جاتے ہیں اور زرِ گل ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر قبل از مون سون کا موسم انتہائی خشک اور گرم رہے، تو پولینیشن کا عمل سو فیصد کامیاب ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں درختوں پر بمپر فصل اترتی ہے۔

نباتیات کے ماہرین کے مطابق، جب کوئی درخت پانی کی کمی یا زمین کے گرتے ہوئے درجۂ حرارت کی وجہ سے دباؤ محسوس کرتا ہے، تو اس کا مدافعتی نظام بیدار ہو جاتا ہے۔ بقا کی جنگ کے طور پر، درخت اپنی تمام تر توانائی اپنی نسل کو آگے بڑھانے یعنی بیج اور پھل پیدا کرنے میں لگا دیتا ہے تاکہ وہ مرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ پھل پیدا کر سکے۔

نباتیات کا یہ اصول پودوں کی جینیات کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کے مطابق جب بھی کسی درخت کو پانی کی شدید کمی یا درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی جیسے سخت حالات کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ اپنی بقا کے لیے اضطراری یا ہنگامی افزائشِ نسل کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران درخت اپنی تمام تر توانائی کو بچانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ پھول اور بیج پیدا کرنے پر لگا دیتا ہے تاکہ وہ ختم ہونے سے پہلے اپنی نسل کو آگے بڑھا سکے۔

چنانچہ، جامن کی کثرت یہ نہیں بتاتی کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ درخت نے حال ہی میں ایک شدید خشک اور گرم موسم کا سامنا کیا ہے۔

یہ رجحان صرف جامن میں ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں سیب، آم، اور صنوبر کے درختوں میں بھی پایا جاتا ہے کہ شدید خشک سالی سے ٹھیک پہلے یا اس کے دوران وہ ریکارڈ پیداوار دیتے ہیں۔

یہیں سے سائنس اور روایتی عقیدہ ایک نکتے پر آ کر مل جاتے ہیں۔ اگرچہ جامن کا درخت مستقبل کی پیشگوئی نہیں کر رہا، لیکن جس ’خشک بہار‘ کی وجہ سے جامن کی فصل اتنی شاندار ہوتی ہے، وہی خشک اور گرم موسم آگے چل کر مون سون کی اہم بارشوں کو روک دیتا ہے۔ جب یہ بارشیں نہیں ہوتیں، تو ’پانی کی شدید قلت‘ ہو جاتی ہے جو آخر کار قحط سالی کا سبب بنتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں اور ’ایل نینو‘ جیسے عالمی ماحولیاتی مظاہر کی وجہ سے اب گرمی کے موسم طویل اور خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ عارضی طور پر تو یہ صورتحال جامن جیسے سخت جان درختوں کے لیے سازگار دکھائی دیتی ہے اور مارکیٹیں پھلوں سے بھر جاتی ہیں، لیکن ماہرینِ ماحولیات شدید خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم جیسے ”ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن“ بھی مسلسل اس بات پر ڈیٹا فراہم کرتی ہے کہ کس طرح ’ایل نینو‘ کے آنے سے دنیا کے کئی حصوں میں طویل خشک سالی پیدا ہوتی ہے، جو درختوں کے اس طرح کے ڈیفنسو میکانزم یا دفاعی نظام کو بیدار کرتی ہے۔

اگر زمین کے نیچے پانی کی سطح مستقل طور پر گرتی چلی گئی، تو ایک وقت ایسا آئے گا جب جامن جیسا ماحول دوست اور مضبوط درخت بھی اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پائے گا اور سوکھ جائے گا۔

جامن کے لیے جو خشک موسم ”تحفہ“ ثابت ہوتا ہے، وہی موسم دیگر فصلوں جیسے چاول، کپاس اور سبزیوں کے لیے تباہ کن ہوتا ہے۔

لوک داستانوں کا یہ کہنا کہ جامن کی کثرت قحط کی نشانی ہے دراصل سائنسی طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ پھل ہمیں اس بدلتے ہوئے موسم کی سنگینی کا احساس دلاتا ہے جو دنیا کو خشک سالی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

Read Entire Article