Times of Pakistan

رونالڈو یا میسی کو ٹیم سے باہر کریں تو کیسا لگے گا؟ ٹرمپ کی فیفا کے فیصلے پر انوکھی منطق

3 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی، بیلوگن نے کوئی سنگین فاؤل نہیں کیا تھا۔

شائع 06 جولائ 2026 08:58pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے امریکی فارورڈ فولارن بیلوگن کو دکھائے گئے متنازع ریڈ کارڈ پر بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کرنا تھا کیونکہ ان کے خیال میں یہ فاؤل نہیں تھا۔

اوول آفس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فیفا صدر سے صرف اتنا کہا تھا کہ بالوگن کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ ان کے بقول، دونوں کھلاڑی ایک دوسرے سے ٹکرائے تھے اور اس دوران الجھ گئے تھے، لیکن یہ ایسا واقعہ نہیں تھا جسے سنگین فاؤل قرار دے کر ریڈ کارڈ دیا جاتا۔

انھوں نے کہا کہ کوئی بھی اپنی تیم کو اسٹار پلیئرز کے بغیر کھیلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا، انھوں نے کہا کہ رونالڈو، میسی یا ہیری کین میچ کے دوران کسی کھلاڑی سے ٹکرا جائیں اور ان پر ایک میچ کی پابندی لگا دی جائے تو کیسا لگے گا؟ اگر اس پر بھی ایسا ہی فیصلہ ہو تو یہ بہت مضحکہ خیز بات ہوگی۔

بیلجیم کے خلاف میچ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ ایک اچھی ٹیم ہے اور دونوں طرف اچھے کھلاڑی ہیں، ہار اور جیت کا فیصلہ تو میدان میں ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں فیفا نے بعد میں انتہائی شاندار فیصلہ کیا، تاہم اصل مسئلہ ریفری کا ابتدائی فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ سب لوگ ریڈ کارڈ واپس لینے کی بات کر رہے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ ریفری نے پہلے اتنا سخت فیصلہ کیوں دیا۔

امریکی صدر نے ریفری کے فیصلے کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی اس پورے تنازع کی اصل وجہ تھی۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب امریکا کے اہم فارورڈ فولارن بیلوگن کو بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف ورلڈ کپ میچ میں وی اے آر جائزے کے بعد براہ راست ریڈ کارڈ دکھا کر ایک میچ کے لیے معطل کر دیا گیا۔ اس فیصلے پر سابق کھلاڑیوں، ماہرین اور شائقین نے اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر ضروری طور پر سخت قرار دیا۔

بعد ازاں فیفا نے اپنے ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے تحت غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے بیلوگن کی معطلی ختم کر دی، جس سے وہ بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل کھیلنے کے اہل ہو گئے۔ اس فیصلے پر بیلجیئم فٹ بال ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے ٹورنامنٹ کے قواعد کے خلاف قرار دیا اور ممکنہ قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔

اس سے قبل برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے بیلوگن کی معطلی ختم کرانے کے لیے فیفا حکام سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس دعوے پر تبصرہ نہیں کیا تھا۔

اب خود ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے اس معاملے پر بات کی تھی اور ریڈ کارڈ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔

Read Entire Article