Times of Pakistan

ساڑھے 3 برس میں اوپن مارکیٹ سے27 ارب ڈالر خریدے، جمیل احمد

6 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا—فوٹو: فائل


اسلام آباد:

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مرکزی بینک نے گزشتہ ساڑھے 3برسوں کے دوران مقامی اوپن مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا جا سکے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کے بغیر ذخائر بڑھانے کے لیے مارکیٹ خریداریوں پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں معیشت کی شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہنے کا تخمینہ ہے۔

جمیل احمد کے مطابق جنوری 2023 سے اب تک اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے، جن میں سے 4.5 ارب ڈالر صرف رواں مالی سال میں حاصل کیے گئے۔

یہ رقم اس تخمینے سے تقریباً 3 ارب ڈالر زیادہ ہے جو گورنر نے دو ماہ قبل ظاہر کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ اپریل میں 5 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کے باوجود ملکی زرمبادلہ ذخائر میں ہر ہفتے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ جلد 17 ارب ڈالر کی سطح عبور کر جائیں گے۔

گورنر اسٹیٹ بینک اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو معیشت کی موجودہ صورتحال اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اہداف پر عملدرآمد سے متعلق آگاہ کیا۔

تاہم قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف کو اس سوال کی اجازت نہیں دی کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب سے جو 3 ارب ڈالر کا نیا قرض لیا، اس پر شرح سود کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق مارکیٹ سے بھاری ڈالر خریداری نے روپے کو دبائو میں رکھا، کیونکہ اگر یہ خریداری نہ ہوتی تو مقامی کرنسی نسبتاً مضبوط رہ سکتی تھی۔

یہ صورتحال اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام مطلوبہ غیر قرضہ جاتی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ آمدن بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

اسٹیٹ بینک کے پاس اس وقت تقریباً 16 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، جن میں سعودی عرب اور چین کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے نقد ڈپازٹس شامل ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کو چین سے پانڈا بانڈز جاری کرنے کے لیے آخری ریگولیٹری منظوری بھی موصول ہو گئی ہے، جس کے بعد 25 کروڑ ڈالر کے بانڈز آئندہ 10 دن میں جاری کیے جائیں گے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے اور جنوری تا مارچ سہ ماہی میں شرح نمو 4 فیصد سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے کچھ معاشی اثرات ضرور ہوں گے، تاہم مجموعی شرح نمو گزشتہ مالی سال کے 3.1 فیصد سے بہتر رہے گی۔

رکن اسمبلی جاوید حنیف نے سوال اٹھایا کہ تیل کی قیمتوں سے پیدا ہونے والی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیوں کیا گیا۔

اس پر جمیل احمد نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں مہنگائی بڑھانے کا بڑا سبب بن رہی ہیں جبکہ بنیادی مہنگائی بھی اوپر جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 6 سے 8 فیصد مہنگائی ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے محتاط فیصلہ کیا۔

محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باوجود حکومت بنیادی بجٹ سرپلس اور بجٹ خسارے کے اہداف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق اپریل میں برآمدات اور ترسیلات زر دونوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم پاکستان بیورو شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا اپریل برآمدات سالانہ بنیادوں پر 1.7 ارب ڈالر کم ہو کر 25.2 ارب ڈالر رہ گئیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ مشرق وسطیٰ تنازع کے باوجود پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر فوری منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے اور اگر جنگ مئی اور جون تک جاری بھی رہی تو بھی رواں مالی سال کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔

Read Entire Article