Times of Pakistan

سفارتی پل، علاقائی امن اور نئی صف بندیاں

7 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سب سے حساس مسئلہ منجمد ایرانی اثاثوں کا ہے۔

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسے مراحل آتے ہیں جب بظاہر الگ الگ نظر آنے والے واقعات درحقیقت ایک ہی بڑی تصویر کے مختلف رنگ ثابت ہوتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ اس وقت ایسی ہی ایک پیچیدہ صورتِ حال سے گزر رہا ہے جہاں سفارت کاری، عسکری حکمتِ عملی، معاشی مفادات، توانائی کی سیاست اور عالمی طاقتوں کی رقابتیں ایک دوسرے میں اس طرح گندھ گئی ہیں کہ کسی ایک پیش رفت کو تنہا سمجھنا ممکن نہیں رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، منجمد ایرانی اثاثوں کے گرد گھومتی بحث، اسرائیل اور امریکا کے تعلقات میں ابھرنے والی نئی حساسیتیں، خلیجی ریاستوں کے سلامتی خدشات اور ان تمام معاملات کے درمیان پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمی ایک ایسے منظرنامے کو جنم دے رہی ہے جو آنے والے برسوں کی علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا تہران کا حالیہ دورہ اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ محض ایک معمول کا سرکاری سفر نہیں بلکہ ایک ایسے وقت میں انجام پانے والا سفارتی اقدام ہے جب خطے کے مختلف دارالحکومت مستقبل کی سمت متعین کرنے والی گفت و شنید میں مصروف ہیں۔

پاکستانی قیادت کی جانب سے ایرانی رہبر کے لیے خصوصی پیغام کی ترسیل اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اسلام آباد اپنے کردار کو صرف ہمسایہ ریاست کے دائرے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ ایک ایسے ذمے دار فریق کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے جو تنازعات کے حل اور رابطوں کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ اس مشن کے پس منظر میں حکومت اور عسکری قیادت کی مشاورت موجود ہے، جس سے ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا پیغام ملتا ہے اور یہ تاثر ابھرتا ہے کہ خارجہ پالیسی کے بعض حساس معاملات پر قومی سطح پر یکسوئی پائی جاتی ہے۔

 پاکستان کے لیے یہ موقع غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ملک کی بین الاقوامی شناخت زیادہ تر داخلی سیاسی کشمکش، معاشی مشکلات اور سلامتی کے مسائل کے حوالے سے زیرِ بحث رہی۔ تاہم حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے یہ امکان پیدا کیا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو ایک مثبت سیاسی سرمائے میں تبدیل کر سکے۔ جغرافیہ ہمیشہ سے پاکستان کی طاقت رہا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحرِ ہند کے سنگم پر واقع یہ ملک جس انداز میں دانش مندانہ سفارت کاری اختیار کیے ہوئے ہے اس سے وہ مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کی کسی بھی کوشش میں پاکستان کا نام سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔اس ضمن میں چین کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تحسین ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں کسی بڑی طاقت کی جانب سے اعتماد کا اظہار محض رسمی بیان نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے سیاسی پیغام پوشیدہ ہوتا ہے۔

چین نے پاکستان کو ایک ذمے دار اور قابل اعتماد ثالث قرار دے کر دراصل یہ اشارہ دیا ہے کہ بیجنگ خطے میں استحکام کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کو مفید سمجھتا ہے۔ چین کے اپنے مفادات بھی اس خطے سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ توانائی کی رسد، تجارتی راستے، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ معاشی روابط اس امر کے متقاضی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ مسلسل کشیدگی کا شکار نہ رہے۔ اسی لیے چین سفارت کاری اور سیاسی مکالمے کو طاقت کے استعمال پر ترجیح دیتا ہے۔

 یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دنیا ایک نئے عالمی توازن کی تشکیل کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا طویل عرصے تک واحد غالب قوت کے طور پر موجود رہا، مگر اب چین کا ابھار، روس کی نئی حکمت عملی، علاقائی طاقتوں کا بڑھتا ہوا کردار اور عالمی معیشت کی بدلتی ہوئی ساخت ایک مختلف منظرنامہ تشکیل دے رہی ہے۔

اس ماحول میں درمیانے درجے کی ریاستوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے کیونکہ بڑی طاقتیں براہِ راست تصادم کے بجائے ایسے ممالک کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں جو مختلف فریقوں کے ساتھ بیک وقت رابطے رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان کی موجودہ سفارتی سرگرمیوں کو اسی زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سب سے حساس مسئلہ منجمد ایرانی اثاثوں کا ہے۔ یہ معاملہ صرف چند ارب ڈالرز کی منتقلی یا عدم منتقلی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ قومی وقار، اقتصادی خودمختاری اور سیاسی اعتماد جیسے عناصر بھی وابستہ ہیں۔ ایران برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کے مالی وسائل پر عائد پابندیاں غیرمنصفانہ ہیں، جب کہ امریکا ان اثاثوں کو اپنے سفارتی دباؤ کے ایک مؤثر آلے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان فنڈز کی رہائی یا ان کے استعمال سے متعلق ہر خبر مذاکراتی عمل پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن ان منجمد اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیر نو یا ممکنہ جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، اگرچہ اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم اس تصور نے کئی قانونی اور سیاسی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ریاستی اثاثوں کے تحفظ کا اصول ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی ملک کے اثاثے کسی تیسرے مقصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران یقیناً ایسے کسی اقدام کو اپنی خودمختاری پر ضرب تصور کرے گا، جب کہ اس کے نتیجے میں جاری مذاکرات کے لیے درکار اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

 اعتماد ہی دراصل موجودہ بحران کا سب سے نایاب عنصر ہے۔ کئی دہائیوں کی کشیدگی، پابندیوں، خفیہ کارروائیوں اور سفارتی تنازعات نے ایران اور امریکا کے درمیان ایک ایسی نفسیاتی دیوار کھڑی کر دی ہے جسے صرف معاہدوں سے نہیں گرایا جا سکتا۔ کسی بھی مفاہمتی عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے ارادوں پر کم از کم اتنا اعتماد کریں کہ مذاکرات کو محض وقت گزاری یا دباؤ بڑھانے کا ذریعہ نہ سمجھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ثالثی کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے ممالک جو دونوں فریقوں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہوں، وہ اعتماد سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے بحران کو سمجھنے کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی توانائی نظام کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے ایک بڑے حصے تک پہنچنے والا تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتے ہیں۔ جب بھی اس آبی گزرگاہ کے بند ہونے یا غیر محفوظ ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو عالمی منڈیاں فوری ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، افراطِ زر میں تیزی اور صنعتی سرگرمیوں پر منفی اثرات اس کے فوری نتائج میں شامل ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایران یا خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کا مسئلہ ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات کراچی سے لے کر ٹوکیو اور لندن سے نیویارک تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔یہ اختلافات اگرچہ تعلقات کے بنیادی ڈھانچے کو فوری طور پر متاثر نہیں کریں گے، تاہم یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ضرور ہیں کہ عالمی سیاست جامد نہیں ہوتی۔ حالات بدلنے کے ساتھ ترجیحات بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی حکمت ِ عملی جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ تجزیے پر استوار کرنا چاہیے۔ کسی بھی ریاست کے لیے یہ تصور نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت ہر حال میں اس کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔اس وقت دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ایسے پلوں کی ہے جو مختلف قوتوں کے درمیان رابطہ قائم کر سکیں۔ جنگیں بظاہر طاقت کا اظہار ہوتی ہیں لیکن ان کے نتائج اکثر کمزور اور طاقتور دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے۔ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں، اربوں ڈالر کی معیشتوں اور پورے خطے کے استحکام کو متاثر کرنے والے تنازعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مستقل امن صرف سیاسی مکالمے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔پاکستان موجودہ حالات میں تدبر، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اس سے نہ صرف وہ خطے میں امن کی کوششوں میں معاون بن سکتا ہے بلکہ اپنی بین الاقوامی حیثیت کو بھی نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔ یہ راستہ آسان نہیں، کیونکہ اس میں مختلف مفادات، حساس تنازعات اور طاقتور فریقوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے، لیکن یہی وہ میدان ہے جہاں ذمے دار ریاستوں کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔

آج مشرقِ وسطیٰ ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ خطہ تصادم کے اندھیروں کی طرف بڑھتا ہے یا مکالمے کی روشنی میں اپنے مستقبل کی نئی تعمیر کرتا ہے۔ اس فیصلہ کن مرحلے میں پاکستان کی سفارتی کاوشیں اگر امن، اعتماد اور رابطے کے فروغ میں کامیاب رہتی ہیں تو یہ صرف ایک ملک کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتی ہیں۔

Read Entire Article