Times of Pakistan

سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم، مگر حکومت کے خلاف طلبہ کا احتجاج جاری

8 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

یہ احتجاج نریندر مودی کے 12 سالہ دورِ اقتدار میں نوجوانوں کی جانب سے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

شائع 24 جولائ 2026 09:10am

بھارت کے سماجی کارکن سونم وانگچُک نے میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے خلاف 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، تاہم طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاج ختم نہیں ہوگا اور مظاہرین نے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق احتجاجی تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) کا مؤقف ہے کہ مئی میں ہونے والے میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے جبکہ اس معاملے کو کئی طلبہ کی خودکشیوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے دو وفاقی وزرا کی موجودگی میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کی۔ ان کے مطابق متعدد ارکان پارلیمنٹ کی اپیل، مختلف شرائط پر طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کی تفصیلات جلد ایک ویڈیو پیغام میں جاری کریں گے۔

دوسری جانب سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے سونم وانگچک کی قربانی اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے منگل کی شب اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا تھا کہ حکومت امتحانات سے متعلق خدشات دور کرنے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ احتجاج نریندر مودی کے 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت کو درپیش نوجوانوں کی جانب سے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور اسی معاملے پر پارلیمنٹ کے جاری مون سون اجلاس میں ہنگامہ آرائی کی۔

سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنے اور بھوک ہڑتال کے دوران کم ہونے والا وزن دوبارہ بحال کرنے کا مشورہ دیا۔

احتجاج کرنے والوں نے جمعہ کو ملک بھر میں مظاہروں کی اپیل بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیر کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تھا۔ دوسری جانب حکومت نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہوں۔

جمعرات تک ہزاروں افراد نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع تھے، جہاں سخت سکیورٹی کے درمیان حکومت مخالف نعرے لگائے گئے اور بینرز اٹھائے گئے۔ احتجاج کے باعث دہلی کے مرکزی علاقوں میں میٹرو اسٹیشن بند رہے، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق رانچی، پونے، ترواننت پورم اور کولکتہ سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات احتجاج کو محدود کرنے اور مزید کشیدگی روکنے کی کوشش ہیں۔ تاہم پولیس کے مطابق بدھ کی رات جنتر منتر پر جمع ہونے والے بعض مظاہرین نے پتھراؤ اور پلاسٹک کی بوتلیں پھینکیں، جس سے چند اہلکار زخمی ہوئے۔ پیر کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج بھی کیا تھا۔

اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف مقدمات کی جلد سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تاہم سی جے پی نے اس تجویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ملک میں بار بار امتحانی پرچے لیک کیوں ہو رہے ہیں۔ بعد ازاں وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پرچے لیک کے خلاف مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق بالی ووڈ کے معروف فنکار سلمان خان، عالیہ بھٹ اور کرینہ کپور نے بھی سوشل میڈیا پر طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا اپنے مقصد کے لیے متحد ہونا حوصلہ افزا ہے۔

یہ احتجاجی تحریک ابتدا میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس میں چند سو نوجوان شامل تھے، لیکن وقت کے ساتھ اس کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مبصرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ نوجوانوں میں روزگار کی کمی اور بار بار امتحانی پرچے لیک ہونے جیسے مسائل پر بڑھتی ہوئی بے چینی ہے۔

Read Entire Article