ARTICLE AD BOX
برطانوی اخبار نے سرٹیفکیٹ کی غلطیوں، نئے اعزاز کی تخلیق اور بھارتی اپوزیشن کی تنقید کو نمایاں کیا، سیشلز حکومت نے وضاحت پیش کر دی۔
شائع 04 جولائ 2026 05:35pm
پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے ماحول میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک مرتبہ پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے سیشلز کی جانب سے مودی کو دیے گئے اعزاز پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس سے متعلق متعدد نکات اپنی رپورٹ میں نمایاں کیے ہیں، جب کہ بھارتی اپوزیشن نے بھی اس معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کے مطابق گزشتہ ہفتے سیشلز کے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ’گارڈین آف دی بلیو ہورائزن‘ کے نام سے ایک اعلیٰ اعزاز دیا گیا، جو مبینہ طور پر ان کی آمد سے صرف تین روز قبل تخلیق کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اس اعزاز کے پہلے اور تاحال واحد وصول کنندہ ہیں۔
اخبار کے مطابق ایوارڈ کے سرٹیفکیٹ میں ریپبلک اور سیشلز جیسے الفاظ بھی غلط لکھے گئے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بعض آن لائن اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز نے سرٹیفکیٹ کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سیشلز کی وزارت خارجہ نے بعد میں وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا سرٹیفکیٹ دراصل ایک ورکنگ ڈرافٹ تھا، جو غلطی سے جاری ہو گیا تھا، جب کہ بعد ازاں منظور شدہ اصل سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔ وزارت نے اس اعزاز کو مکمل طور پر مستند قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے پر وزیراعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس رہنما سپریا شریناتے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں کوئی بھی ایوارڈ دے دیں، وہ دوڑے چلے آئیں گے۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرٹیفکیٹ میں سیشلز کے سرکاری نام کی غلط املا حکومت کی عجلت کو ظاہر کرتی ہے۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز بھارت کے لیے باعثِ فخر ہے اور وزیراعظم مودی کو یہ اعزاز ان کی ماحولیاتی قیادت کے اعتراف میں دیا گیا۔
دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران وزیراعظم مودی کے غیر ملکی دوروں میں نئے اعزازات ملنا ایک نمایاں رجحان بن چکا ہے۔ اخبار کے مطابق اسرائیل نے بھی مودی کے دورے سے قبل میڈل آف دی کنیسٹ متعارف کرایا، جس کے پہلے وصول کنندہ بھی مودی تھے۔
رپورٹ میں 2019 کے فلپ کوٹلر صدارتی ایوارڈ کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے پہلے وصول کنندہ نریندر مودی تھے۔ دی گارڈین کے مطابق اس ایوارڈ کو ہر سال کسی قومی رہنما کو دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد کسی اور شخصیت کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔
بھارتی تجزیہ کار نیلانجن مکھوپادھیائے نے دی گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم مودی کو ملنے والے متعدد اعزازات کو ان کی شخصیت پر مبنی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ایسے اعزازوں کا مقصد حامیوں میں یہ تاثر مضبوط کرنا ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ مودی کی قیادت کا نتیجہ ہے۔
دی گارڈین کے مطابق ناقدین ان اعزازات کو سیاسی تشہیر سے جوڑتے ہیں، جب کہ بی جے پی انہیں وزیراعظم مودی کی عالمی حیثیت اور بھارت کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کا اعتراف قرار دیتی ہے۔
.png)
6 hours ago
1




English (US) ·