ARTICLE AD BOX
اسلام آباد:
ایف بی آر نے فروٹ اور سبزیوں کے جوس، آئس کریم، ایریٹڈ واٹر اور دیگر مشروبات، شربت، سگریٹ، ٹوائلٹ صابن، ڈٹرجنٹس، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ، شیونگ کریم، پرفیوم اور کاسمیٹکس سمیت تیسرے شیڈول میں شامل سیکڑوں اشیائے ضروریہ پر ریٹیل قیمت اور سیلز ٹیکس واضح درج کرنا لازمی قرار دے دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق تیسرے شیڈول کے تحت ان اشیا کی فہرست جاری کردی گئی ہے اور سیلز ٹیکس جنرل آرڈر فور ی طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری کردہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر میں ہدایت دی گئی ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے تیسرے شیڈول میں شامل اشیا پر ریٹیل قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم واضح، نمایاں اور مستقل انداز میں درج کی جائے۔ آرڈر کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کی دفعہ 3 کی ذیلی دفعہ (2)(الف) کے تحت تیسرے شیڈول میں شامل قابلِ ٹیکس اشیا کی مقامی سپلائی اور درآمدات پر ریٹیل قیمت کی بنیاد پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ متعلقہ اشیا پر ریٹیل قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم مینوفیکچرر یا درآمدی اشیا کی صورت میں درآمد کنندہ کی جانب سے ہر آئٹم، پیکٹ، کنٹینر، پیکج، کور یا لیبل پر واضح، نمایاں اور مستقل طور پر پرنٹ یا ابھار کر درج کرنا لازمی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ متعدد معاملات میں تیسرے شیڈول میں شامل اشیا پر ریٹیل قیمت یا تو درج نہیں ہوتی، یا واضح طور پر نظر نہیں آتی، یا پھر پس منظر، مونوگرام، ڈیزائن، رنگوں یا دیگر پرنٹ شدہ مواد کی وجہ سے اس طرح چھپ جاتی ہے کہ سیلز ٹیکس کے تعین اور وصولی کے لیے ریٹیل قیمت کا باآسانی معلوم ہونا ممکن نہیں رہتا۔ جنرل آرڈر میں تمام مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ تیسرے شیڈول میں شامل اشیا پر ریٹیل قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم ایسے فونٹ سائز اور رنگ میں درج کی جائے جو پس منظر سے واضح طور پر مختلف ہو، ننگی آنکھ سے آسانی سے دکھائی دے اور پڑھنے میں کسی دشواری کا باعث نہ بنے۔ مزید ہدایت دی گئی ہے کہ ریٹیل قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم کو کسی بھی ڈیزائن، مونو گرام، اسٹیکر، ریپر یا دیگر چسپاں کیے گئے مواد کے ذریعے نہ چھپایا جائے اور نہ ہی اسے غیر واضح بنایا جائے۔ اس ضمن میں ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ لازمی پرنٹنگ اسپیسفکیشنز پر مکمل طور پر عملدرآمد یقینی بنانے اور خلاف ورزی کی صورت میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے تیسرے شیڈول کے تحت ان اشیا کی فہرست جاری کر دی ہے جن پر ریٹیل قیمت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس کا اطلاق ہوتا ہے اور جن پر مقررہ طریقہ کار کے مطابق ریٹیل قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم نمایاں طور پر درج کرنا لازم ہے۔ جاری کردہ فہرست کے مطابق اس میں فروٹ اور سبزیوں کے جوس، آئس کریم، ایریٹڈ واٹر اور دیگر مشروبات، شربت، سگریٹ، ٹوائلٹ سوپ، ڈٹرجنٹس، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ، شیونگ کریم، پرفیوم، کاسمیٹکس، چائے، پاوٴڈر ڈرنکس، ملکی ڈرنکس، ٹوائلٹ پیپر، ٹشو پیپر، برانڈڈ مسالہ جات، شو پالش، ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والا سیمنٹ اور منرل یا بوتل بند پانی شامل ہیں۔ فہرست میں گھریلو برقی آلات ایئر کنڈیشنرز، ریفریجریٹرز، ڈیپ فریزرز، ٹیلی ویڑن، ریکارڈرز، پلیئرز، برقی بلب، ٹیوب لائٹس، پنکھے، استریاں، واشنگ مشینیں اور ٹیلی فون سیٹس شامل ہیں، ان کے علاوہ گھریلو گیس کے آلات، فوم اور اسپرنگ میٹریسز، گھریلو استعمال کی دیگر فوم مصنوعات، ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والے پینٹس، رنگ، وارنش، ریزنز، تھنرز، پولشز، لبریکیٹنگ آئلز، بریک فلوئیڈ، ٹرانسمیشن فلوئیڈ اور دیگر وہیکولر فلوئیڈز، ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی پلاسٹک کی پلیٹس، شیٹس، فلم، فوائل، ٹیپ، اسٹرپس اور دیگر فلیٹ اشیا، پلاسٹک سے تیار کردہ گھریلو استعمال کی اشیا، ٹیبل ویئر، کچن ویئر، فرنیچر، اسٹوریج آئٹمز، حفظانِ صحت سے متعلق مصنوعات اور مختلف اقسام کے سفری بیگز، ہینڈ بیگز، بریف کیسز، اسکول بیگز، پرس، بٹوے، شاپنگ بیگز اور اسی نوعیت کی دیگر اشیا بھی تیسرے شیڈول میں شامل کی گئی ہیں۔
.png)
6 hours ago
1




English (US) ·