ARTICLE AD BOX
گفتگو میں گرما گرمی بڑھنے کے بعد ٹرمپ نے انٹرویو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ معذرت، اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انٹرویو کے دوران سخت سوالات کا سامنا کرنے پر پروگرام سے اُٹھ کر چلے گئے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔
امریکی نیوز چینل این بی سی کے پروگرام میٹ دی پریس کو دیا گیا ایک انٹرویو اس وقت اچانک ختم کردیا گیا جب میزبان کرسٹن ویلکر نے ان سے کیلیفورنیا کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق ان کے دعوؤں کے ثبوت طلب کیے۔
قومی سطح پر نشر ہونے والے اس انٹرویو کے دوران ابتدا میں گفتگو کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی کے طریقہ کار پر ہوئی، تاہم جلد ہی بحث شدت اختیار کرگئی جب ویلکر نے صدر ٹرمپ سے انتخابی دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے شواہد مانگ لیے۔
گفتگو کے آغاز میں ٹرمپ نے کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چار دن گزر چکے ہیں اور وہ ابھی تک نتائج کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔
اس پر کرسٹن ویلکر نے کہا کہ کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی کا طویل عمل ریاست کے قائم شدہ انتخابی نظام کا حصہ ہے۔
ٹرمپ نے اس تاخیر کو بے ضابطگیوں کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ، کیا آپ جانتی ہیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ وہ انتخابات میں دھاندلی کر رہے ہیں۔
ویلکر نے فوری طور پر سوال کیا کہ کیا ان کے پاس اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت موجود ہے؟جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ مجھے صرف دیکھنا ہوتا ہے، اور مزید کہا کہ وہ لوگوں کی باتیں سنتے ہیں۔
این بی سی کی میزبان نے دوبارہ زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں دھاندلی شدہ انتخابات کے حوالے سے کوئی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم ٹرمپ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور اس کے بجائے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ووٹنگ کے کئی دن بعد بھی گنتی جاری رہنا مناسب ہے؟
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ یہ مناسب ہے کہ ایک انتخاب ہو اور پانچ دن بعد بھی وہ فاتح کا تعین کرنے کے قریب نہ ہوں؟
جس پر پروگرام کی میزبان نے جواب دیا کہ اگرچہ عمل سست ہے، لیکن کیلیفورنیا کے حکام اسے بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
بعد ازاں گفتگو میڈیا پر تنقید کی جانب مڑ گئی۔ ٹرمپ نے کیلیفورنیا کے انتخابی حکام کو بدعنوان قرار دیا اور اپنی تنقید کا رخ ویلکر اور متعدد میڈیا اداروں کی طرف بھی موڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ یک طرفہ اور بدعنوان ہیں، بالکل اسی طرح جیسے آپ بدعنوان ہیں، آپ کا پریس بدعنوان ہے اور میٹ دی پریس بھی بدعنوان ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے انعقاد کے معاملے میں امریکا تیسری دنیا کے ملک جیسا دکھائی دیتا ہے۔ اس پر ویلکر نے جواب دیا، منصفانہ طور پر دیکھا جائے تو میں بدعنوان نہیں ہوں۔
ٹرمپ نے اس کے جواب میں کہا کہ یا تو آپ بدعنوان ہیں یا پھر بے وقوف۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ این بی سی، اے بی سی، سی بی ایس، سی این این اور دیگر میڈیا ادارے جانبدارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، آپ کے انتخابات بدعنوان ہیں، آپ بدعنوان ہیں اور میٹ دی پریس بھی بدعنوان ہے۔
گفتگو میں گرما گرمی بڑھنے کے بعد ٹرمپ نے انٹرویو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ معذرت، اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں۔
اس کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنا مائیکروفون اتارا اور اسے زمین پر پھینک دیا۔
جب ویلکر نے انہیں یاد دلایا کہ وہ اس انٹرویو کے لیے وسکونسن تک سفر کرکے آئی ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا، میں ایک گھنٹے تک آپ کے ساتھ بارش میں بیٹھا رہا ہوں۔
میزبان نے گفتگو جاری رکھنے کی کوشش کی، تاہم ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی کافی وقت دے چکے ہیں اور میڈیا کو اپنی رپورٹنگ درست کرنے کا مشورہ دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب صدر ٹرمپ کا کسی صحافی کے ساتھ تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہو۔
این بی سی انٹرویو سے چند روز قبل بھی انہوں نے ایک علیحدہ پریس تقریب کے دوران سی این این کی رپورٹر کیٹلین کولنز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور سی این این کو انتہائی بدعنوان ادارہ قرار دیا تھا۔
.png)
3 hours ago
2







English (US) ·