Times of Pakistan

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دے دیا

46 minutes ago 3
ARTICLE AD BOX

امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا: امریکی صدر کا فاکس نیوز کو انٹر ویو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

پیر کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں جب کہ ایران کے ساتھ تجویز کردہ معاہدے پر تنازع کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی تجویز احمقانہ ہے، اومابا اور بائیڈن ہوتے تو شاید ایرانی تجویز قبول کرلیتے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ایران کے ساتھ نمٹ کر دنیا کے لیے خدمات پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے کوئی دباؤ یا کوفت محسوس نہیں کر رہا ہوں، ہم نے بڑی فوجی کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ناکہ بندی وینزویلا منصوبے کی طرح شاندار فوجی منصوبہ تھا، ایران کے ساتھ جنگ ​​بندی انتہائی نگہداشت میں ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی ہمارے ساتھ ساری باتوں پر متفق ہو کر مکر جاتے ہیں، امریکا کی طرح ایران میں بھی اعتدال پسند اور پاگل موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے جواب کاکئی دنوں تک انتظار کیا حالانکہ جواب 10 منٹ میں دیا جاسکتا تھا۔ امریکی صدر نے کردوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کردوں نے ہمیں مایوس کیا، ہم نے ایران میں داخل کرنے کےلیے کرودوں کو ہتھیار دیے مگر انہوں نے وہ ہتھیار اپنے لیے رکھ لیے۔

یہ منصوبہ گزشتہ ہفتے شروع کیا گیا تھا تاکہ اہم آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالا جا سکے تاہم تقریباً 48 گھنٹے بعد اسے عارضی طور پر روک دیا گیا تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے امریکا سے جنگی نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری کی توثیق کی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے امریکا سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی ختم کرے، مزید حملے روکے، پابندیاں ہٹائے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کرے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی تجویز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تاہم اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے پہلے جنگ بندی کی تجویز دی تھی تاکہ بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر حساس معاملات پر مذاکرات کیے جا سکیں۔

Read Entire Article