Times of Pakistan

صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

آپریشن میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائیر، ہزاروں اہلکار، سیکڑوں جہاز اور ڈرونز حصہ لیں گے: سینٹرل کمانڈ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا اعلان کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے یہ مشن پیر کی صبح شروع کیا جائے گا جس کا مقصد ان ممالک کے جہازوں کو آزاد کرانا ہے جو مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازع میں فریق نہیں ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے اپنے پھنسے ہوئے جہاز اور عملہ نکالنے کے لیے امریکا سے مدد مانگی ہے جس کے جواب میں انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ممالک کو بھرپور تعاون کا یقین دلائیں۔

صدر ٹرمپ نے اس اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں میں کھانے پینے کے سامان سمیت انسانی ضرورت کی بہت سی اشیاء کی شدید کمی ہو چکی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس مشن کا مقصد ان کمپنیوں اور ملکوں کو ریلیف دینا ہے جنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ کے بقول یہ اقدام فریقین کے درمیان خیرسگالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے سخت لہجے میں خبردار بھی کیا کہ اگر اس انسانی ہمدردی کے عمل میں کسی نے بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے انہوں نے ایک مثبت پہلو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرے نمائندے ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت کر رہے ہیں اور یہ عمل سب کے لیے انتہائی بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس مشن کے تحت تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا کیونکہ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے ہونے والی تیل کی تجارت کا ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اس دفاعی مشن کے لیے ہمارا تعاون علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے، جبکہ ہم بحری محاصرہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اس بڑے آپریشن کی کامیابی کے لیے امریکی فوج اپنے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز، 100 سے زائد طیاروں، جدید ڈرونز اور 15 ہزار فوجی اہلکاروں کا استعمال کرے گی تاکہ اس عالمی تجارتی راہداری میں بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Read Entire Article