Times of Pakistan

ضخیم جریدہ ’’زیست‘‘ کی اشاعت

7 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

nasim anjum27 gmail com


 ’’زیست‘‘ کا تازہ شمارہ نمبر 24 شائع ہو کر اہل علم و دانش کے ہاتھوں میں آ گیا ہے۔ مدیر اعلیٰ ڈاکٹر انصار شیخ ہیں اور معاون مدیرہ تزئین راز زیدی صاحبہ۔ بہترین مضامین اور ایک اکلوتا و لاڈلہ خاکہ اس ہستی کا ہے جس کی قدر سب کرتے ہیں۔

شعر و سخن، ناولٹ، افسانے، عالمی افسانے اور تراجم کے حوالے سے کئی اہم تحریریں موجود ہیں۔ سہ ماہی ’’زیست‘‘ ضخامت کے اعتبار سے 400 صفحات پر مشتمل ہے۔جو بات میں عرض کرنے جا رہی ہوں وہ ہرگز قصیدہ خوانی نہیں ہے بلکہ سچائی پر مبنی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر انصار شیخ اس گرانی کے دور اور ساتھ میں ادبی و تدریسی مصروفیات کے باعث نہایت وقیع کام کرتے ہیں جو باعث حیرت اور مسرت ہے۔ جب ہم مقالات پر نظر دوڑاتے ہیں تو پہلا مقالہ ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا ہے جو ہماری نظروں کے حصار میں ہے۔

عنوان ہے اردو کے نادر الفاظ و مرکبات مع اسناد (اردو لغت بورڈ کی لغت کے تناظر میں)۔ مصنف نے تحقیقی و تنقیدی مضمون کی ابتدا اس طرح کی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا مطمع نظر سامنے آ گیا ہے ہم ان کی ہی زبانی سنتے ہیں۔’’ یہ عاجز طالب علم گزشتہ کئی برسوں سے ایسے نادر الفاظ و مرکبات اور ان کی اسناد بھی پیش کرتا رہا ہے جو اردو لغت بورڈ کی 22 جلدی لغت میں کسی وجہ سے درج ہونے سے رہ گئے ہیں یا اگر درج بھی ہیں تو ان کی اسناد کم ہیں یا معنی کی کوئی شق درج ہونے سے رہ گئی ہے لیکن اتنے بڑے کام میں کوئی کمی رہ جانا کچھ عجب نہیں ہے بلکہ خود آکسفورڈ کی لغت کلاں(جس کے تبتع میں اردو بورڈ کی لغت مرتب کی گئی) میں بھی بہت بڑی تعداد میں الفاظ درج ہونے سے رہ گئے تھے ،جن کے لیے آکسفورڈ کو کئی ضمیمے الگ سے شائع کرنے پڑے۔‘‘


 جو الفاظ و مرکبات اردو لغت بورڈ کی لغت میں بہ وجوہ شامل نہیں ہو سکے ان پر راقم نے متعدد مضامین مختلف ادبی جرائد میں شائع کرائے اور جیساکہ راقم ان مضامین میں بھی عرض کرتا رہا ہے، ان نادر الفاظ و مرکبات اور ان کی اسناد کو پیش کرنے کا مقصد خدانخواستہ بورڈ کی تنقیص یا اس کے کام پر تنقید نہیں بلکہ یہی جاگزیں رہا، جب اس ضخیم و عظیم لغت کی ترتیب و تدوین نو ہو اور نیا ایڈیشن شائع ہو تو اس میں موجود ان کمیوں کو دور کیا جاسکے۔


ڈاکٹر صاحب نے دلائل کے ساتھ کچھ مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ ’’فلسطین میں جاری نسل کشی کے خلاف فلسطینی رومال (کوفیہ) پہننے پر عجائب گھر کی انتظامیہ نے اپنے تین ملازمین کو برطرف کر دیا تھا۔‘‘ قومی زبان کراچی (دسمبر 2024 ص100)
(کونڈی ڈنڈا) واؤ معروف، ن غنہ،ڈ مفتوح، ن ساکن) (مرکب عطفی بلا حرفِ عطف)
بورڈ نے یہ مرکب درج نہیں کیا، اگرچہ کونڈی اور کونڈی سونٹا کا اندراج موجود ہے۔ پھر رؤف پاریکھ نے اس کی تفصیل بھی بتائی ہے کہ ان الفاظ کا استعمال کب اور کہاں کیا جاتا ہے۔ سند کے طور پر ایک شعر بھی درج ہے، جس کے خالق ظفر علی خان ہیں۔


کونڈی ڈنڈا مجھ رنگیلے کا سلامت چاہیے
بھنگ ہر حیلے مرا داتا مجھے پلوائے گا
ایک اور مثال وضو کا پانی پلانا۔ بورڈ نے درج نہیں کیا۔ معنی ہیں (غصہ کم کرنے کے لیے) کسی کو وضو کا بچا ہوا پانی پلانا۔ مشہور ہے کہ وضو کا بچا ہوا پانی پلانے سے غصہ کم ہو جاتا ہے) شان الحق حقی کی سند موجود ہے۔


بہت ہوتا ہے مے خواروں پہ برہم
پلاؤ شیخ کو پانی وضو کا
ماخذ، حوالہ جاتی کتب اور ’’جرائد‘‘ کے صفحات کو ملا کر مضمون 13 صفحات کا احاطہ کرتا ہے۔ ہم نے من و عن مضامین لکھنے کے مقاصد کو ڈاکٹر صاحب کی زبانی پیش کر دیا ہے۔یہ طالب علموں کے لیے بے حد معلوماتی مضمون ہے جسے ڈاکٹر صاحب نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ لکھا ہے۔ ’’موجودہ دور میں غزل کے اظہاری پہلو‘‘ اس عنوان کے تحت شاعر و افسانہ نگار زیب اذکار کا ایک بہترین مضمون شامل ہے۔ انھوں نے بے حد خوبصورت انداز میں موضوع کے حوالے سے اپنی بات مکمل کی ہے اور بہت سارے شعرا کے دل کش اشعار بھی شامل تحریر ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس کا خاکہ مجسم تنظیم ڈاکٹر عظمیٰ نوید نے اپنے تجربات کی بنا پر لکھا ہے۔

انھوں نے دوران تدریس اپنی دوررس نگاہوں سے جائزہ لیا، اس کا نچوڑ اپنی تحریر کے قالب میں ڈھال دیا ہے جو بھی انھوں نے تعریف و تحسین خوبصورت جملوں کی شکل میں کی ہے، بے شک وہ اس کی مستحق ہیں۔ وہ اس طرح رقم طراز ہیں ’’جو چند دن پہلے ہی شعبہ اردو میں کسی نگینے کی طرح نصب ہو گئی تھیں جس سے شعبہ اردو کے کہنہ مشق در و دیوار بھی ششدر و متحیر تھے۔ شعبہ اردو جیسے سج گیا ہو عموماً سفید لباس میں ملبوس یہ وجود طلبا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔‘‘بے شک ڈاکٹر تنظیم الفردوس ہر لحاظ سے قابل تعریف ہیں۔ چیزوں کو منظم کرنے کے فن سے بخوبی آشنا ہیں، بااخلاق ہیں، دوسروں کی عزت بنا کسی تخصیص کے کرتی ہیں، بدلے میں انھیں بھی توقیر اور محبت کے خوش رنگ پھولوں سے نوازا جاتا ہے۔

باکمال لوگوں اور باکمال شخصیات میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔’’زیست‘‘ کے24 ویں شمارے میں تمام افسانے تو خوب اور خوب تر کے زمرے میں نہیں آتے ہیں ،البتہ کچھ افسانے واقعی مکمل اور دور جدید کی افسانہ نگاری کے عکاس ہیں، ان میں تنوع بھی ہے اور تجسس بھی۔ میں نے کئی افسانے ایک ہی نشست میں پڑھ لیے۔ اتفاق سے آخر میں اجمل اعجاز کا افسانہ پڑھنے کا اتفاق ہوا ’’خراٹے‘‘۔ کہانی پڑھتے ہوئے ہمارا ذہن یورپ کے ایک واقعے کی طرف چلا گیا، جس میں ایک عورت عدالت میں طلاق کے لیے پیش ہوئی ،بیوی شوہر کے خراٹوں سے بہت تنگ تھی لہٰذا محترمہ نے طلاق لے لی۔

مذکورہ افسانہ بے حد مختلف ہے، کفایت لفظی کے ہنر نے افسانہ نگار کو خاص ترکیب سے افسانہ لکھنے کی ترغیب دی لیکن اس کا اختتامیہ اپنے اندر تشنگی اور قاری کو سوال کرنے کے لیے اکساتا ہے۔زیب اذکار کی افسانہ نگاری کی شناخت ان کے افسانوں میں موجود وہ کردار ہیں جو خود کلامی میں محو رہتے ہیں اور کہانی خوبصورت موڑ کاٹتی ہوئی انجام کو پہنچتی ہے۔’’سرسری لمحوں سے اظہار ہمدردی‘‘ ایک مختلف سوچ اور خیال کا عکاس ہے۔

سردی اور ہفتے کے دنوں کی بازگشت، کہانی منگل کا دوسرا ہفتہ تھا یہ جملہ بھی قاری کو سوچنے اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ ’’سردی بھی تو میری ہی طرف سے سب کی آؤ بھگت کرتی ہے، کوئی ایسی بات نہیں۔ ہاں یہ جو تم فرض کر لیتی ہو کہ میں ہر دوسرے لمحے کو خوش آمدید کہوں گا۔‘‘تسنیم کوثر کا افسانہ ’’ستارہ‘‘ کچھ روایتی انداز میں لکھا گیا ہے اور بے جا طوالت کا شکار ہے لیکن انھوں نے تمام کرداروں کو مربوط رکھتے ہوئے، بیانیہ طرز نگارش میں ڈھالا ہے۔

بے شک تسنیم کوثر ایک اچھی افسانہ نگار ہیں۔ تخلیق نگار کو تو اپنی ہر تخلیق پیاری لگتی ہے لیکن حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی دوسرا اسے جانچے اور پرکھے۔ڈاکٹر شاہد رضوان اپنی ناول نگاری اور وہ بھی دیہاتی ماحول اور زبان پر دسترس رکھنے کی وجہ سے اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں۔ ’’ننھی‘‘ ان کے افسانے کا عنوان ہے جو غربت و لاچاری کی آنچ میں پک کر نوجوانی کی حدود میں داخل ہوا ہے۔ بہت موثر افسانہ ہے۔ ڈاکٹر شفیق انجم کا افسانہ ’’شرفو‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کا کردار کو وہ لے کر چلے ہیں ،ایسے کردار ہمارے معاشرے میں ہی رہتے بستے ہیں۔

شیخی خورے، خوشامدی اور دروغ گو ۔ بہترین انداز میں نقاب کشائی کی گئی ہے جو اپنے اندر دلچسپی اور طنز کا سنگم لیے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر شکیل احمد خان کا افسانہ ’’جون‘‘ افسانے کا انجام ایسا ہے جسے قاری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں بہرحال 400 اوراق کو سمیٹنا اور ان پر لکھنا ناممکن ہے۔ ڈاکٹر انصار شیخ کو مبارکباد۔
 

Read Entire Article