ARTICLE AD BOX
ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری حالیہ پیش رفت اور بدلتی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
اپ ڈیٹ 07 مئ 2026 08:09pm
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی تازہ صورتِ حال، سفارتی کوششوں اور علاقائی تعاون سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری حالیہ پیش رفت اور بدلتی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ گفتگو کے دوران علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جب کہ پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان پائیدار حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آج کسی بھی وقت ثالثوں کے ذریعے امریکی امن تجویز پر اپنا جواب جمع کرا سکتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ایک مختصر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اس یادداشت کا مقصد فوری طور پر جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ ایک صفحاتی معاہدے کے تحت جنگ ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا جس کے بعد تیس دنوں کا ایک مخصوص وقت دیا جائے گا تاکہ ایٹمی مسائل، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور آبنائے ہرمز کی حفاظت جیسے پیچیدہ معاملات کو حل کیا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایران کے ساتھ بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔
تاہم انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ایران اس معاہدے پر راضی نہیں ہوتا تو بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
.png)
3 hours ago
4







English (US) ·